The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

ارمان اس روز پشاور میں تھا ۔۔ کوہاٹ یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے کچھ سٹوڈنٹس نے کمپیوٹر پروگرام ڈیزائن کیے تھے ۔ ارمان نے اُن سے میٹنگ کے بعد ونگ کمانڈر شہریار جہانگیر کو مطلع کیا تھا کہ وہ جلد از جلد اِن سٹوڈنٹس سے رابطہ کرے ۔ اُسے اب چند اور ضروری کام نمٹانے تھے ۔
امتحانات سے فارغ ہو کر اسے پی ٹی سی ایل میں کچھ مہینہ انٹرن شپ مکمل کرنا تھی ۔ جاب اُس کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھی ۔فی الحال وہ تندہی کے ساتھ کچھ وقت ایس ٹی ای کو دینا چاہتا تھا ۔
شام چھ بجے کا وقت تھا ارمان اپنی تین ساتھی ورکرز کے ساتھ حیات آباد ہوٹل واپس جا رہا تھا جب دو موٹر سائیکل سواروں نے دونوں طرف سے ان کی کار پر شدید فائرنگ کی ‘ فائرنگ اتنی اچانک اور شدید تھی کہ فوری طور پر انہیں سنبھل کر نیچے چھپنے کا موقع بھی نہیں مل سکا ۔ ان کی کار توازن کھو کر درخت سے ٹکرائی ارمان ڈرائیونگ سیٹ سے ساتھ والی سیٹ پر تھا ۔
“عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ بہت قریب سے اور اتنی شدید تھی کہ اُن چاروں میں سے کسی کا بھی زندہ بچنا بہت مشکل تھا ۔”
انہیں فوری طور پر پشاور سول ہسپتال طبی امداد کے کیے پہنچایا گیا ۔ کچھ دیر ہی دیر میں ایس ٹی ای کے ہیڈ کمانڈر کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور مقامی کارکنا ن کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر جمع تھی۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


ٹھیک اسی وقت رامین حسبِ عادت دھاڑ سے دروازہ کھول کر منتہیٰ کے کمرے میں داخل ہوئی۔
آپی کچھ سنا آ پ نے رامین دھم سے بیڈ پر گری ۔۔ اُس کا جوش و خروش دیدنی تھا
“ہاں “۔۔ مختصر جواب آیا
“ہیں وہ کیا ۔۔؟؟”۔۔ رامین نے حیرت سے دیدے پھاڑے
“ایک دھماکہ اور بیڈ کی چند کراہیں جو تمہارے یوں دھم سے گرنے کے باعث ڈیویلپ ہوئی تھیں ۔۔ ہمیشہ کی طرح ٹو دی ٹاپک جواب آیا “۔۔
“اُف آپی “۔۔۔رامین جز بز ہوئی ۔۔
“آ پ کو پتا ہے ارسہ آُ پی کا ایک بہت اچھا پروپوزل آیا ہے ۔ لڑکا لندن میں سافٹ ویئرانجینئر ہے ۔۔”
“اچھا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔۔ مزید تفصیلات بتاؤ “۔۔ منتہیٰ نے جھٹ سے لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کی ۔۔
“مزید تفصیلات یہ ہیں کہ مسٹر فواد نے ارسہ آپی کو ان کی کسی فرینڈ کی ویڈنگ میں دیکھا تھا ۔۔اور بس دل ہار بیٹھے ۔۔ کل شام ان کی ممی رشتہ لائی تھیں ۔۔ امی ابو کو یہ رشتہ بہت پسند آیا ہے “۔۔۔ رامین نے ساری بلیٹن ٹیلی کاسٹ کی۔۔
“اچھا”۔۔ “یہ ارسہ ہے کدھر۔۔ آؤ اِس کی خبر لیں اِس گھنی نے ہمیں ہوا بھی نہیں لگنے دی “۔۔ وہ دونوں آ ستینیں فولڈ کرتی ہوئی اٹھی اور باہر چھوٹے سے باغیچے میں اکیلی بیٹھی ارسہ کو جا لیا ۔۔
وہ دونوں مل کر ارسہ کو خوب چھیڑنے میں مگن تھیں جب رامین کے ہاتھ میں دھرا اس کا سیل تھرتھرایا ۔۔
دوسری طرف فاریہ تھی جو اسے ارمان پر حملے کے بارے میں آگاہ کر رہی تھی۔۔لمحے بھر کو رامین کے ہاتھ کانپے۔۔ اُسکاسر چکرایا ۔۔
“رامین ۔از ایوری تھنگ اوکے ؟؟ “۔۔منتہیٰ نے اسکی بدلتی کیفیت نوٹ کی
“آپی ارمان بھائی پر پشاور میں اٹیک ہوا ہے ۔ وہ شدید زخمی ہوئے ہیں اور اُنکے ساتھی بھی “۔ بمشکل رامین نے اپنی بات مکمل کی مگر منتہی ٰ اس کی پوری بات سنے بغیر ہی نے اندر دوڑ لگا چکی تھی ۔۔۔
سٹڈی کے لیے اس نے اپنا موبائل کافی دیر سے سائیلنٹ پر چھوڑا ہوا تھا ۔۔
گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران اسے فاریہ سمیت ایس ٹی ای کے ونگ کمانڈرز کی لاتعداد کالز آچکی تھیں ۔
چند ہی گھنٹے میں ایس ٹی ای آپریشن ہیڈ ارمان یوسف پر اٹیک کی خبر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی تھی ۔
ارمان کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود پشاور کا رہائشی داور خان جائے وقوع پر ہی دم توڑ گیا تھا جبکہ باقی تینوں کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پرہر طرح کے تبصرے جاری تھے ۔۔ وہ کہتے ہیں نا کہ برا وقت پوچھ کر نہیں آ تا ۔۔ اور جب بھی آتا ہے تو سب سے پہلے دوست نما دشمن ااپنی اصلیت دکھاتے ہیں ۔۔ سوشل میڈیا ٹیم ہی میں سے کسی نے یہ بریکنگ نیوز جاری کی تھی کہ ’’ ایس ٹی ای ۔۔اب ختم کر دی جائے گی ۔۔ کیونکہ ارمان یوسف اِز ڈیڈ ناؤ۔۔”
منتہیٰ کے لیے یہ زندگی کا پہلا سب سے کڑا وقت تھا ۔۔ شہریار سمیت ایس ٹی ای کے تقریباٌ تمام ونگز ہیڈ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ارمان کے پاس تھے جس کی حالت بدستور تشویناک تھی ۔۔۔ جبکہ اُن کا ایک اور ساتھی حارث پمز پہنچنے سے پہلے ہی زندگی کی باز ی ہار چکا تھا ۔
اس نے بہت تیزی کے ساتھ صورتحال کو سنبھالا تھا ۔اگلے روزفاؤ ندیشن میٹنگ سے پہلے ہی اس کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہو چکی تھی ۔
“جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیو دی ارتھ فردِ واحد کے دم پر کھڑی ہوئی۔ ایک عام سی فاؤنڈیشن تھی میں اُن کو یہ بتا دینا چاہتی ہوں کہ ٰایس ٹی ای کے پاس ایک نہیں کئی ارمان یوسف ہیں ۔۔ تم ایک ارمان یوسف کا خون بہاؤ گے تو یاد رکھو اِس خونِ ناحق سےسینکڑوں ارمان یوسف جنم لیں گے ۔۔۔ آج ایک داور خان اور حارث منظور جان کی بازی ہارے ہیں ۔۔کل شاید ہمیں اِس سے کئی گنا زیادہ کارکنان کے خون کی قربانیاں دینی پڑے۔ ۔ہمارے دشمنوں کو یہ سن کر یقیناٌ شدید مایوسی ہوگی کہ ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلے تھے۔۔اور آخری دم تک لڑیں گے ۔
“”ہم غازی رہیں گے یا شہید ۔۔۔ لیکن ہم میدان چھوڑ کر ہر گز نہیں بھاگیں گے ۔۔۔

***********

منتہیٰ نے اگلے روز میٹنگ میں سب سے پہلے سوشل میڈیا ونگ کی خبر لی ۔۔۔۔
ارمان نرم دل اور جلد بھروسہ کر لینے والوں میں سے تھا ۔ وہ کبھی باس پُرس نہیں کیا کرتاتھا اور تمام ونگ کمانڈرز کو مکمل آزادی دی ہوئی تھی ۔۔اور اِسی آزادی سے فائدہ اٹھا کر کچھ کالی بھیڑیں بھیس بدل کر کافی عرصے سے ڈیرے ڈالے۔ شاید کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھیں ۔
مگر جلالی غصے اور ایک سو بیس کا آئی کیو رکھنے والی منتہیٰ نازک سی یہ لڑکی نہ تھی وہ اپنے اندر پہاڑوں جیسا عزم اور سختی رکھتی تھی ۔۔فاریہ اور ارحم کے علاوہ بھی وہ کافی سوشل میڈیا ایڈمنز سے ذاتی طور پر واقف تھی ۔
سب سے پہلے اس نے اِن کالی بھیڑوں کی درست نشاندہی کرکے اُن کا صفایا کیا ۔۔ پھر سوشل میڈیا ونگ کو سیکیوریٹی کے لئےسخت وارننگ جاری کی ۔ ساتھ ہی برین ونگ کوفوری طور پر سوشل میڈیا پر الرٹ کروایا تاکہ افواہوں کو فوری اور مؤثر طور پرہینڈل کیا جاسکے ۔
منتہیٰ اپنے والد اور ڈاکٹر عبدالحق کے ساتھ شہیدہونے والے دونوں کارکنان کے گھرتعزیت پر بھی گئی ۔
اگلے کئی روز تک وہ کسی ِ پھرکی کی طرح لاہور‘ پشاور اور اسلام آ باد کے درمیان گھومتی رہی ۔
ارحم ، شہریار ، صمید ، صہیب میر اور تقریباًتمام ونگ کمانڈرز ارمان کے ہوش میں آنے تک مستقل ہاسپٹل میں تھے ۔منتہیٰ نے جس طرح اُسی رات سے کمان سنبھالی تھی ۔اس کی تفصیلات انہیں ملتی رہی تھیں ۔وہ اس دھان پان سی لڑکی کی ہمت اور حوصلے پر ششدرہ تھے ۔۔ خود اُن میں تین دن تک اِس حقیقت کو قبول کرنے کی ہمت نہیں تھی کہ ارمان ہم میں نہیں رہیگا ۔اوراگر ایسا ہوگیا تو یقیناٌ وہ بکھر جائیں گے ۔
“”وہ بے خبر تھے کہ منتہیٰ اُن سب کی کیسی کلاس لینے والی ہے ۔

***********

کچھ دُھندلا دُھندلا سا منظر تھا ۔۔ اُس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی
ممی کچھ فاصلے پر کھڑی تھیں۔۔ اُن کی سوجی متورم آنکھیں دیکھ کہ وہ تڑپا ۔
ممی کو کیا ہوا ہے وہ کیوں اتنا رو رہی ہیں ۔؟؟ ۔اُس نے ہاتھ بڑھایا ۔۔ آوازیں دیں ۔۔ مگر ۔۔ مگر ۔۔ وہ میری آواز کیوں نہیں سن رہیں ۔۔ مجھے جواب کیوں نہیں دیتیں ۔۔ وہ دیوانہ وار ماں کی طرف بڑھا ۔
اور ٹھیک اُسی وقت ۔۔ ای سی جی مشین نے ،جو پچھلے تین منٹ سے سیدھی لائن شو کرر ہی تھی ۔ اُس کی پہلی ہارٹ بیٹ ڈیٹیکٹ کی ۔
“ایک ماں کی دعا ۔۔ عرش سے فیصلہ تبدیل کروا کر اپنے لال کو واپس لے آئی تھی ۔ یا اُس کی تقدیر میں ابھی مزید زندگی لکھی تھی “۔۔وہ موت کو شکست دے کر زندگی کی وادی میں لوٹ آیا تھا ۔
اور پھر ہر آتے دن کے ساتھ اس کی حالت بہتر ہوتی گئی ۔چھٹے روز ارمان یوسف کو آئی سی یو سے روم میں منتقل کردیا گیا ۔
جبکہ ارمان کے ساتھ زخمی ہونے والاان کے چوتھے ساتھی کی حالت بھی سنبھل چکی تھی ۔
ارمان یوسف نے آئی سی یو سے کمرے میں منتقل ہونے اور ملاقات کی اجازت ملنے کے بعد سب سے پہلے شہریار سے تینوںساتھیوں کے بارے میں پوچھا تھا
“تو فکر مت کر وہ سب بھی اب خیریت سے ہیں ۔ اس نے تسلی دی ۔۔”ارمان کچھ دیر تک خالی نظروں سے چھت کو گھورتا رہا ۔
“شیری “۔۔ “داور خان نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا تھا ۔”
اس کی مدھم سی آواز پر شہریار اپنی جگہ ساکت ہوا اور لاجواب بھی ۔
“حارث منظور بھی ہاسپٹل میں ختم ہو گیا تھا ۔۔ البتہ مسعود یہیں پمز میں ہے اور اس کی حالت تم سے بہتر ہے “۔۔ ارحم نے سچ بتانامیں ہی عافیت سمجھی ۔۔ ورنہ ارمان اپ سیٹ رہتا ۔
ارمان کے لیے یہ زندگی کا انتہائی تکلیف دہ موڑ تھا ۔۔وہ جن ہم وطنوں کی تقدیر بدلنے نکلا تھا ظالم بے حس لوگوں نے انہی کے خون سے کھیل کر ارمان کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا ۔ وہ کہاں سے لا کر دے اِن دو اجڑے خاندانوں کو اُن کے
جوان سپوت ؟؟۔۔بری بھلی جیسی بھی گزر رہی تھی ۔۔ وہ زندہ تھے تو جینے کا آ سراہی تھا ۔
اس نے شدید اذیت سے آنکھیں بند کر کے ان میں اتر آنے والی نمی چھپائی۔ تو ڈاکٹر یوسف اس کے قریب آئے ۔وہ ارمان کیا ندرونی کیفیت سے آگاہ تھے۔
وہ ان کی اکلوتی اولاد تھا جس کی دیوانی ماں کو وہ بہت مشکل سے نیند کی گولیاں دے کر سلا کر آئے تھے ۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے مستقل ہسپتال میں تھیں ۔ مگر اب ارمان کی حالت سنبھلتے ہی وہ انھیں رشتہ داروں کے پاس چھوڑ آئےتھے۔
“لیکن جو دو جوان شہید ہوئے تھے وہ بھی کسی کی اولاد تھے ۔۔ زلزلے ، طوفان اور نا گہانی آفات میں جو ہزاروں مرتے ہیں اُن کے دم سے بھی تو لاکھوں گھر آباد ہوتے ہیں ۔۔”
دو دن بعد ارمان نے ارحم سے اپنا سیل فون مانگا تھا۔
اُس کے سینے اور بائیں کندھے پر تین گولیاں لگی تھیں ۔۔ بمشکل سیل تھام کر اُس نے فیس بک لاگ اِن کی ۔
سیو دی ارتھ ۔۔ پیجز ، گروپس حتی کی اس کی اپنی پروفائل تک پر منتہیٰ کی ویڈیو چھائی ہوئی تھی ۔
اس نے کئی دفعہ ریورس کر کے ویڈیو دیکھی ۔ وہ اپنی جگہ ساکت تھا ۔۔ یہ دھان پان سی لڑکی ہر دفعہ اسے زندگی کے ایک نئے مفہوم سے آشنا کراتی تھی ۔
اُس کی جھیل جیسی گہری آ نکھوں میں کسی زخمی شیرنی کا سا جلال تھا ۔۔’’ہم غازی رہیں گے یا شہید لیکن ہم میدان چھوڑ کر ہرگزنہیں بھاگیں گے‘‘ ۔
ارمان نے زیرِ لب کئی دفعہ۔۔ اُس کے الفاظ دہرائے ۔
“وہ آج ایک دفعہ پھر جیت گئی تھی ۔۔۔ لیکن اب اُس سے ہارنا ۔۔ ارمان کو اچھا لگنے لگا تھا ۔۔”

***********

“آپی ہم لوگ ابو کے ساتھ ارمان بھائی کی عیادت کو جارہے ہیں آپ چلیں گی ؟؟”۔۔ رامین نے ڈرتے ڈرتے بہن سے پوچھا
منتہیٰ نے ایک لمحے کو سر اٹھا کر اُسے دیکھا ۔۔ “ہاں ۔۔میں تیار ہوکر آتی ہوں۔۔”
رامین کا منہ حیرت سے کھلا ۔۔ پر اُس نے بھاگ نکلنے میں ہی عافیت سمجھی ۔
“آپی از اِن سٹرینج موڈ” ۔۔وہ بڑبڑاتی ہوئی اِرسہ کے کمرے تک آ ئی ۔
“فکر مت کرو آپی کا نز لہ ارمان بھائی پر نہیں گرے گا “۔۔۔ فی الحال ۔۔ اِرسہ ہنسی
“تو پھر کس پر گرے گا ؟؟” ۔۔ “یو نوواٹ۔۔ آپی چار پانچ دن سے شدید غصے میں ہیں ۔۔”
“میرا خیال ہے کہ شامت۔۔ کل شام میٹنگ میں ونگ کمانڈرز کی آئےگی ۔۔”
“چلو دیکھتے ہیں ۔۔ ویسے مزا آئے گا ۔۔آپی کا غصہ ۔۔ اللہ بچائے “۔۔ رامین نے ہنستے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگائے
ایک گھنٹے بعد وہ ارمان کے بیڈ روم میں تھے ۔۔ ارمان تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔ اُس کے پاس ارحم اور شہریار بھی موجود تھے ۔۔ انہیں آتے دیکھ کر دونوں بجلی کی سی تیزی سے اٹھے ۔
“آپی کی دہشت “۔۔ رامین نے ارسہ کو، کوہنی ماری۔۔
منتہیٰ پر نظر پڑتے ہی ارمان نے زور سے آنکھیں بھینچی ۔۔ “چلو شکر ہے ۔۔ محترمہ آئیں تو ۔۔”
ارمان کی خیریت پوچھ کر فاروق صاحب ، ڈاکٹر یوسف کے ساتھ ڈرائنگ روم میں چلے گئے ۔۔ اُن کے پیچھے ارحم اور شہریار بھی جانے کے لئے اٹھے ۔۔
“آپ دونوں اپنا کچھ قیمتی وقت دینا پسند کریں گے “۔۔ منتہیٰ کی انتہائی خشک آواز نے انکے بڑھتے قدم روکے ۔۔
“جی جی ضرور۔۔ کوئی کام تھا آپ کو مس دستگیر ؟؟”۔۔ شہریار مڑ کر زبردستی مسکرایا
“جی کام تو بہت سارے ہیں انشاء اللہ کل میٹنگ میں بتاؤں گی ۔۔۔ فی الحال آ پ کو صرف ایک ویڈیو بنانی ہے۔”
منتہیٰ نے اپنا پرس کھول کر ایک فولڈ پیج نکالا اور رامین کو تھمایا کہ ارمان کو دیکر آئے ۔۔
“یہ کیا ہے مس منتہیٰ ؟؟”۔۔ ارمان حیران ہوا ۔۔ نقاہت کے باوجود وہ منتہیٰ کے خطرناک موڈ کو بھانپ چکا تھا ۔۔
“یہ آپ کی سپیچ ہے ۔۔ چونکہ فی الحال آ پ اس کنڈیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے دماغ پر زیادہ زور ڈال سکیں ۔۔ اِس لیے میں نے لکھ دی ہے ۔۔۔ منتہی ٰنے تیکھی نظروں ارحم کو گھورا ۔۔( یہ سوشل میڈیا ونگ کا کام تھا) ۔
پھر وہ اَرحم کی طرف پلٹی‘ آواز میں شدید سختی در آئی ۔۔ اس کی ویڈیو ایک گھنٹے کے اندر سوشل میڈیا پر وائرل ہونی چاہئے ۔۔”رائٹ”
اپنی بات مکمل کرکے وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی ۔۔ِ ارسہ اور رامین اپنی جگہ ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھیں ۔
“تم دونوں نے چلنا نہیں ہے”۔۔؟؟ ۔۔ منتہیٰ گرجی ۔۔
“آپی آپ چلیں ہم پانچ منٹ میں آتے ہیں “۔۔ رامین نے ڈرتے ڈرتے کہا
“اور منتہیٰ دستگیر۔۔ارمان یوسف پر ایک نظر ڈالے بغیر جا چکی تھی “۔۔ اُس کے نکلتے ہی کمرے میں رامین اور ارسہ کے قہقہے گونجےجو وہ بہت مشکل سے روکے بیٹھیں تھیں ۔۔
“یہ اِن دونوں کو کیا دورہ پڑا ہے” ۔۔؟؟۔۔ شہریار پہلے ہی جلا بھُنا بیٹھا تھا
“اپنی لاڈلیوں کو تھوڑی کچھ کہنا ہے ۔۔ میڈم آئرن لیڈی نے” ۔۔ہونہہ ۔۔ ارحم نے بھڑاس نکالی
“آئرن لیڈی “پر ۔۔ رامین اور ارسہ نے ایک اور قہقہہ لگایا ۔۔
“ارمان بھائی آپ تو بچ گئے ۔۔ لیکن باقی کسی کی خیر نہیں ۔۔ کل آپ دونوں میٹنگ میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر آنا “۔۔ ارسہ نے ارحم اور شہریار کو خبردار کیا ۔
“اٹھو اِرسہ آپی ۔۔ورنہ گھر پہنچ کر تمہاری بھی خیر نہیں “۔۔ رامین نے ارسہ کو ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔
ارمان آج ہفتوں بعد کھل کر مسکرایا تھا ۔۔ اسے یہ دونوں فتنیاں چھوٹی بہنوں جیسی لگا کرتی تھیں ۔۔
“ابے جلدی کر ۔۔ ویڈیو بنا “۔۔ شہریار نے اَرحم کو دھپ رسید کی ۔۔
منتہیٰ کے خطرناک موڈ سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا ۔۔”کل کسی کی بھی خیر نہیں تھی “۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد ارحم نے ارمان کی سپیچ ویڈیو بنا کر اُس کے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ سے اَپ لوڈ کی تھی۔۔۔اور صرف بیس منٹ میں اس ویڈیو پرلائیکس کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی ۔

***********

اس کی آواز نسبتاٌ کمزور اور نقاہت زدہ تھی لیکن اس کی آنکھوں کی چمک اُس کے بلند عزائم کی عکاس تھی ۔
“میری ماں کے بعد یہ آپ سب کی دعائیں تھیں جو مجھے موت کے منہ سے نکال کر زندگی کی طرف واپس لے کر آئیں ۔۔ یقیناٌ ہمارا ایک بڑا نقصان ہوا ہے ۔۔ ہمارے دو بہت پیارے اور با ہمت ساتھی اب ہم میں نہیں رہےلیکن میں آ پ سے وعدہ
کرتا ہوں کہُ ان کا خونِ نا حق ہم ضائع نہیں جانے دیں گے ۔۔’’ شہید کا خون تاریک راہوں میں وہ چراغ فروزاں کرتا ہے جواَمر ہیں ۔۔ جن کی روشنیاں تا اَبد بہت سوں کو راستہ دکھاتی رہتی ہیں ۔”
“ہم محلات اور مخملیں گدوں پر سونے والے وہ لوگ نہیں ہیں جن کے دعوے اور وعدے صرف سیاسی جلسے اور جلوسوں تک محدود رہتے ہیں ۔۔۔ ہم نے جب آغاز کیا تھا ۔ہم تب بھی جانتے تھے کہ انقلابات پھولوں کی سیج کسی کے لئے بھی نہیں ہوتے ۔۔۔تبدیلیاں لانے کے لیے عام آدمی ۔۔ اپنے کارکنان کے ساتھ کبھی تپتی سڑکوں پر ، کبھی جھلستے ریگستانوں میں،کبھی یخ بستہ نیم منجمد پہاڑوں پر طوفانوں سے لڑنا پڑتا ہے ۔۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری تحریک میں جو پہلا خون بہا ہوا ،
اس میں میرا اپنا خون بھی شامل ہے اور جب تک اس جسمِ ناتواں میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے میں لڑتا رہوں گا۔
“”ہم غازی رہیں گے یا شہید لیکن ہم میدانِ جنگ چھوڑ کر ہر گز نہیں بھاگیں گے۔

جاری ہے
***********

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں