آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

آپی یہ جبران کے بڑے بھائی ہیں ۔۔ یہ ان کا بھتیجا ہے ۔۔ رامین منتہیٰ کو اپنے نکاح کی پکچرز دکھاتے ہوئے ساتھ ساتھ بتاتی جا رہی تھی ۔۔ اس کے چہرے پر شفق رنگ بکھرے ہوئے تھے ۔۔ منتہیٰ نے غور سے اُسے دیکھا ۔۔ نکاح کے بعد وہ پہلے سے زیادہ پیاری ہو گئی تھی ۔۔بات بات پر کھلکھلاتی ۔۔ آنکھوں کے جگنو روشنیاں بکھیرتے ۔۔ کیا محبت واقعی عورت کا روپ بڑھا دیتی ہے ۔۔؟؟ چھوٹی چھوٹی با توں کو اب وہ پہروں بیٹھ کے سوچتی تھی ۔۔ کیونکہ
اب سوچنے کے لیے وقت ہی وقت تھا۔ ڈاکٹر جبران ٹیکساس میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مقیم تھا ۔۔ رامین اور جبران کا یہیں سے اسپیشلائزیشن کا ارادہ تھا ۔۔آپی ، آپ کو جبران کیسے لگے ۔۔؟؟۔ رات رامین نے اُس کے پاس بستر میں گھس کر کر پوچھا ۔۔؟ جبران وہاں سے تھوڑی دیرپہلے ہی گیا تھا ۔۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


ذہین ‘ سمارٹ اور ڈیسنٹ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ٹو دی پوائنٹ جواب ۔
اف۔۔ آپی ۔۔ اچھا یہ بتائیں ہمارا کپل کیسا ہے ۔۔؟؟
بہت پیارا ۔۔۔ منتہیٰ نے بچوں کی طرح اُس کے گال تھپتھپائے ۔۔ وہ کہیں اور گُم تھی ۔
ارمان بھائی کی کال نہیں آئی کیا ۔۔ جو آپ اتنی کھوئی کھوئی سی ہیں ۔۔؟؟ رامین نے اُسے چھیڑا
منتہیٰ نے تیزی سے اپنا رُخ پھیرا ۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔ اُس دشمنِ جاں کے ذکر پر بہت سے سوئے زخم جاگے ‘ جب سے گیا تھا ۔۔ پھر رابطہ ہی نہیں کیا ۔۔۔ یاد تو آنا تھا ۔۔

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں
مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں

کچھ سوچتے ہوئے رامین نے کمرے کی لائٹس آف کیں اور باہر لاؤنج میں آکر ۔۔ ارمان کا نمبر پنچ کیا ۔
ارمان آفس میں بے انتہا مصروف تھا ۔۔ بیل جاتی رہی ۔۔۔ کافی دیر بعد اُس نے کال ریسیو کی
ہیلو رامین! خیریت ہے نا ۔۔ منتہیٰ ٹھیک ہیں ۔۔؟؟
اُوہ ۔ہو۔۔ نہ سلام ۔۔ نہ دعا ۔۔ بڑا خیال ہے لوگوں کا ۔۔ آخر ہم بھی آپ کے کچھ لگتے ہیں ۔۔؟؟ ۔رامین نے شرارت سے دیدے نچائے ۔۔
ارمان نے ریلیکس سا ہوکر چیئر کی پشت سے سر ٹکایا ۔۔ آپ کے بہت کچھ لگتے وہیں قریب ہی ہیں آپ کے پاس ۔ یہ بتاؤ کال کیوں کی ہے ؟۔
ہمم۔۔۔ پہلے آپ یہ بتائیں آپی کو کب سے کال نہیں کی آپ نے ۔۔؟؟
کال میں کرتا رہتا ہوں ۔۔ کیوں کیا مسئلہ ہے ۔۔ اس نے گول مول جواب دیا
وہ کئی دن سے بہت اُداس رہتی ہیں اور گُم صم بھی ۔۔
طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا ان کی ۔۔؟؟ ۔۔تم ڈاکٹر کے پاس لےکر جاؤ ۔۔ جبران کو بلا لو ۔۔
اُن کا ڈاکٹر تو پاکستان میں بیٹھا ہے ۔۔۔ وہ آپکو مِس کرتی ہیں۔۔ پلیز انہیں کال کر لیں ۔۔
رامین خدا حافظ کہہ کر کب کی کال کاٹ چکی تھی ۔۔ مگر ارمان اُسی طرح سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا ۔۔
رامین کو یقیناًکوئی بڑی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔ سر جھٹک کر وہ دوبارہ کام میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔

تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

************

’’ خدا کے قوانین اِس زمین تک محدود نہیں ہیں ، یہ ساری کائنات میں جاری و ساری ہیں۔۔زمین اور اجرامِ فلکی کی پیدائش بھی اُسی خدا کی نشانیوں میں سے ایک ہے ، نیز وہ ذی حیات آبادیاں جو اللہ نے زمین اور آسمانی کروں میں  پھیلا رکھی ہیں ۔یہ آبادیاں اس وقت تو الگ الگ ہیں ۔۔لیکن خدا اِس پر قادر ہے کہ ان کو باہم ملا دے‘‘۔

(سورۂ الشوریٰ)

ہر انسان قرآن کو اپنی اپنی علمی سطح کے مطابق سمجھتا ہے ۔۔ ۔ اللہ تعالی ٰ نے اگر قرآن پاک صرف چومنے ، سپارے پڑھنےیا معاشرتی زندگی کے قوانین سمجھانے کے لیے اتارا ہوتا تو پھر اتنی دقیق آیات کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جس  طرح اِس آیت کی تشریح کی گئی ہے وہ متجسس ذہنوں پر آگہی کے نئے در وا کرتی ہے ۔ منتہیٰ قرآنِ پاک کی فلکیات سے متعلق تمام آیات اور ان کی ہر طرح کی تشریحات کو اکھٹا کر کے ایک کتاب لکھنے میں مصروف تھی ۔۔ اب اس کا سارا دن لیپ ٹاپ پرگزرتا ہے ۔

ایک بہتے دریا کے بہاؤ کو اگر روک دیا جائے تو وہ یقیناًدریا نہیں رہتا بلکہ جھیل بن جاتا ہے ۔۔ جس کا اپنا علیحدہ حسن ہوتا ہے ۔۔ جینے کی لگن رکھنے والے ہر حال میں جینے کا ڈھنگ سیکھ لیتے ہیں ۔۔ سو اپنی مستقل مزاجی سے پتھر میں سوراخ کرکے منتہیٰ نے بھی اپنے لیئے راستہ بنا لیا تھا ۔۔ ناسا کے انسٹرکٹر زکے لیے وہ اب کسی کام کی نہیں تھی ۔۔ وہ اپنے ریسرچ پراجیکٹ کے لیے اُس کے صحت یاب ہونے کا طویل انتظار نہیں کر سکتے تھے ۔ ۔البتہ ایم آئی ٹی میں اُس کی صلاحیتوں کے معترف اب بھی کم نہ تھے ۔۔ اِس کے با وجود اُس کی بڑھتی ہوئی گمبھیر خاموشی کو رامین نے ہی نہیں جبران نے بھی نوٹ کیا تھا۔۔
یار رامین۔۔ یہ آپی اور ارمان بھائی کے درمیان آل از ویل ہے ۔۔ نہ۔۔؟؟ ۔۔وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا
پتا نہیں ۔۔ رامین خود اسی ادھیڑ بن میں لگی تھی۔۔
تو پتا کرو نہ ۔۔!!! جبران نے اُسے گھورا
کیسے کروں ۔۔؟؟ وہ دونوں ہی گُھنے ہیں۔
ایکِ ٹرک ہے۔۔ جبران نے کچھ سوچتے ہوئے چٹکی بجائی ۔۔اور پھر رامین کے کان میں پلان بتانے لگا ۔۔
واہ ۔۔کبھی کبھی تم بڑی سمجھداری کی بات کرتے ہو ۔۔ یہ مجھے پہلے کیوں نہ سوجھا ۔۔؟؟
ایکچولی ۔ مسز جبران ۔میں تو ہمیشہ سمجھداری کی باتیں کرتا ہوں لیکن وہ آپ کو سمجھ کبھی کبھی آتی ہیں ۔۔جبران نے کالر جھاڑے
کیا مطلب میں کم عقل ہوں ۔۔؟؟۔ رامین نے اُسے آنکھیں دکھائیں
ارے نہیں ۔۔ آپ ایک لائق فائق سمجھدار ڈاکٹر ہیں ۔۔ لیکن میری فلسفیانہ باتیں سب ہی کو مشکل سے سمجھ آتی ہیں ۔۔
رامین نے ہاتھ میں پکڑا میگزین اُسے کھینچ کر مارا ۔۔ جو بر وقت جھکائی کے باعث کچن کاؤنٹر پر جا لگا ۔۔ رامین کو اب ارمان کی کال کا انتظار تھا ۔۔ مگر ایک ہفتہ گزر گیا اس کی کوئی کال موصول نہیں ہوئی۔
ارمان گزشتہ دو روز سے اسلام آباد میں تھا ۔۔ جہاں اُسے آفس کی کچھ میٹنگز میں شرکت کرنا تھی اور پھر ڈاکٹر عبدالحق سے ملاقات طے تھی۔ جو اَب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں چیئرمین کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے ۔۔ لیکن سیو دی ارتھ سے اُن کا تعلق ہنوز برقرار تھا ۔۔ وہ آج بھی اُس کے تمام نئے پراجیکٹس میں پہلے کی طرح ہی بھر پور دلچسپی لیا کرتے تھے۔
دو دن کا تھکا ارمان گھر پر اپنی خیریت کی اطلاع دیکر یوں گھوڑے گدھے بیچ کر سویا ۔۔ کہ پھر دو بجے شدید بھوک سے آنکھ کھلی ۔ہوٹل ریسیپشن پر کھانے کا آرڈر دیکر اُس نے سینٹر ٹیبل پر پاؤں پھیلائے اور سیل پر کال اور میسجز چیک کرنے لگا ۔
رامین کی کوئی بیس پچیس مسڈ کالز تھیں ۔۔ چونک کر وہ سیدھا ہوا اور کال ملائی ۔۔
رامین اُس وقت منتہیٰ کو ایکسرسائز کروا رہی تھی ۔۔
ہیلو ارمان بھائی کہاں غائب ہیں ۔۔؟؟
وہ بس آفس کی کچھ میٹنگز تھیں ۔۔ تم سناؤ سب خیریت ہے نہ۔۔ منتہیٰ کیسی ہیں ۔۔؟؟
اُوہ ہو ۔۔۔ فکر تو بہت رہتی ہے جناب کو ۔۔ رامین نے دیدے نچائے ۔ یہ لیں، خود ہی پوچھ لیں ۔۔ اُس نے سیل منتہیٰ کو
تھمایا ۔۔۔
ہیلو منتہیٰ کیسی ہیں آپ ۔۔ ارمان نے دل میں رامین کو۔ کوستے ہوئے ۔ بات کا آغاز کیا ۔۔ دو ماہ سے منتہیٰ سے اُسکا کوئی
رابطہ نہیں تھا ۔۔
دوسری طرف منتہیٰ کے حلق میں اٹکے آنسوؤں کے گولے نے اُس کی آوا زہی نہیں نکلنے دی ۔۔ منتہیٰ آپ ٹھیک ہیں ۔۔؟؟
ارمان نے دوبارہ پکارا ۔۔ اُسکا خیال تھا کہ منتہیٰ بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ اب اُس کے پاس خیال رکھنے والے موجودتھے۔۔ اُسے ارمان کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ ہمیشہ سے صرف ایک ضرورت تھا ۔۔ ۔یہ کڑوی گولی کئی ماہ پہلے ارمان پیل جھیل کے کنارے نگل چکا تھا ۔۔
جی ۔۔ آنسوؤں پر بند باندھ کر منتہیٰ نے بمشکل جواب دیا ۔۔۔ ارمان نے اُسے معاف نہیں کیا تھا ۔۔اُوکے اپنا خیال رکھیے گا ۔۔ اللہ حافظ ۔۔ ارمان کال کاٹ چکا تھا ۔۔ اور منتہیٰ اِس اجنبیت پر ۔۔ چہرہ ہاتھ میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر ر و دی تھی ۔۔

چلو اک بار پھر سے ا جنبی بن جائیں ہم دونوں ۔۔
نہ میں امید رکھوں تم سے کوئی دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

پھر بہت سارے دن یونہی دبے پاؤں گزرتے گئے ۔۔ اِس خاموشی میں پہلا پتھر ۔۔ ارسہ کی آمد نے پھینکا ۔۔ ارسہ کا بیٹا فہام اب ماشاء اللہ دو سال کا تھا ۔۔ اور تین ماہ کی ننھی سی گڑیا علیزے۔۔ دو بچوں کی آمد نے گویا چھوٹے سے فلیٹ کو خو شیوں سے بھر دیا تھا ۔۔
’’ایک ہی آنگن کی چڑیاں ۔۔ ساتھ ہنستے کھیلتے ،، لڑتے جھگڑتے ۔۔بڑی ہونے والیاں۔۔دور دیسوں میں جا بستی ہیں ۔۔ پھر جب کبھی لمبی مسافتوں کے بعد ایک چھت تلے جمع ہوتی ہیں تو گویا دھنک کے سارے بچھڑے رنگ مل کر سما باندھ دیتےہیں ۔‘‘
تینوں مل کر سارا دن گپیں لگاتیں۔۔ جانے کب کب کی اُوٹ پٹانگ باتوں کو یاد کر کے پہروں ہنستیں ۔۔۔
آپی میری مانیں ۔۔ اب آپ بھی شادی کر لیں ۔۔۔ ایک روز اِرسہ نے منتہیٰ کو ننھی علیزے سے کھیلتے دیکھ کر مشورہ دیا ۔۔
منتہیٰ کے ہاتھ ایک لمحے کو ساکت ہوئے ۔ پھر اُس نے خود کو سنبھال کر علیزے کو بیڈ پر لٹایا۔۔
کیوں رامین میں نے صحیح کہا ہے نہ۔۔ آخر ارمان بھائی اور کتنا انتظار کریں گے ۔۔؟؟
ایک لمحے کو منتہیٰ اور رامین کی نگاہیں ملیں ۔۔ پھر منتہیٰ نے تیزی سے رُخ پھیرا۔
ارمان جیسے نیک صفت بندے کے لائق تو وہ پہلے بھی کبھی نہیں تھی ۔۔ پھر اب ۔۔اُس نے اپنی بائیں مفلوج ٹانگ کو دیکھا ۔۔
جس میں حادثے کے چار ،پانچ ماہ بعد بھی دورانِ خون بندتھا۔۔

تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

بہت سی کرب ناک راتوں کے بعد اب تقدیر کے فیصلے کو وہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ چکی تھی ۔۔ ارمان یوسف اس کے صبر کا انعام تھا یا نہیں ۔۔؟؟ یہ فیصلہ اب زیادہ دور نہیں تھا ۔۔
آپی۔۔۔ آپ میری شادی میں آئیں گی نا ۔۔۔؟؟
اِرسہ کے بعد رامین بھی اب پاکستان رختِ سفر باندھنے کو تھی ۔۔ پاکستان میں اس کی شادی کی تاریخ رکھی جانے والی تھی ۔۔
ہاں میری جان کیوں نہیں ۔۔ میں کچھ دن پہلے آجاؤں گی ۔۔ منتہیٰ نے پیار سے رامین کے گال چھوئے
دیکھیں ۔۔ اگر آپ نہیں آئی نہ تو میں کبھی شادی نہیں کروں گی ۔۔۔ رامین نے دھمکایا
تین دفعہ ’قبول ہے‘ ۔۔ تو تم میرے بغیر کہہ ہی چکی ہو ۔۔ مینا نے اُسے چھیڑا
ٹھیک ہے ۔۔ پھر آپ دیکھنا ۔۔ میں رخصتی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔ ہونہہ
تم نہیں جاؤگی تو۔۔ جبران تمہیں خود ہی اٹھا کر لے جائیگا ۔۔ بہت بے صبرا ہے وہ ۔۔
رامین کے گال شہابی ہوئے ۔۔ لب مسکرائے ۔۔ پھر اُس نے بہن کے گلے میں بانہیں ڈالیں ۔۔ جی ۔۔ارمان بھائی جیسا
صبر تو کسی کے پاس بھی نہیں ۔۔
اُس دشمنِ جاں کے ذکر پر ۔۔ منتہیٰ کی آنکھوں میں کرچیاں سے اُتریں ۔۔ بیڈ کا سہارا لے کر وہ اٹھی ۔۔ اُسے پیکنگ کرنا تھی
رامین کے پاکستان روانہ ہونے سے پہلے اسے نینسی کے ساتھ میسا چوسسٹس میں اُس کے فلیٹ منتقل ہونا تھا ۔
وہ برسوں پہلے ۔۔ آنے والوں دنوں کا فیصلہ کر لینے والی ۔۔ وہ سپیڈ آف لائٹ کے ساتھ سفر کے خواب دیکھنے والی فی الحال اپنے مستقبل کے کسی بھی فیصلے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھی ۔۔ اُسے یقیناًپاکستان ہی واپس جانا تھا ۔۔
اپنے ادھورےمنصوبے پورے کرنے کے لیے ۔۔ لیکن

************

لنچ ٹائم تھا ۔۔۔ ارمان آفس میں ہی کچھ منگوانے کا سوچ رہا تھا کہ ۔۔ سیل تھر تھرایا ۔۔ رامین کالنگ۔۔
ہیلو ۔۔ ویلکم بیک رامین ۔۔ کیسی ہو ۔۔؟؟
ٹھیک ہوں ۔۔ ایسا ہے ارمان بھائی کے آپ کے آفس سے ۲۰ منٹ کی ڈرائیو پر آرکیڈین کیفے ہے ۔۔میں آپ کاوہاں انتظار کر رہی ہوں ۔۔
سب خیریت ہے نہ ۔۔؟؟ رامین کے انداز پر وہ اَلرٹ ہوا
بس آپ پہنچیں ۔۔ پھر بتاتی ہوں ۔۔ رامین نے کال کاٹی ۔۔
پچیس منٹ بعد ارمان نے ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر تیزی سے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی ۔۔ اُس کی توقع کے بر خلاف ایک کارنر ٹیبل پر بیٹھی رامین پورے سکون سے سیل پر کینڈی کرش کھیلنے میں مصروف تھی ۔۔
ایسے کیوں بلایا ہے ۔۔؟؟
بس بھوک لگ رہی تھی ۔۔ اور پیسے نہیں تھے ۔۔ رامین نے دانت نکالے
ارمان نے گہرا سکون کا سانس لے کر چیئر کی پشت سے ٹیک لگایا ۔۔ کیوں تمہارے ڈاکٹر جبران کہاں ہیں ۔۔؟
وہ جہاں کہیں بھی ہیں ۔۔ کیا آپ مجھے ایک وقت کا اچھا سا لنچ نہیں کروا سکتے ۔۔ چلیں جلدی سے کچھ منگوائیں ۔۔ بھوک سے برا حال ہے ۔۔ رامین نے اُسے آنکھیں دکھا ئیں ۔۔
ارمان نے ویٹر کو اشارہ کرتے ہوئے محفوظ ہونے والے اندا ز میں اسے بغور دیکھا ۔۔ آخر وہ منتہیٰ کی بہن ہی تھی۔۔
تمہاری شادی کی تیاریاں کہاں تک پہنچیں ۔۔؟؟ ۔۔ارمان نے نے فرنچ فرائز اپنے پلیٹ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
شادی ۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں کہ شادی کچھ عرصے کے لیئے پھر ملتوی کروا دوں ۔۔۔
واٹ ۔۔؟؟ ۔۔ارمان ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا کیوں ۔۔ کیا مسئلہ ہے ۔۔؟؟
مسئلہ بہت بڑا ہے ۔۔ اگر آپی میری شادی میں نہیں آئیں تو میں شادی نہیں کروں گی ۔۔
ارمان اُس کے نروٹھے انداز پر مسکرایا ۔۔ ڈونٹ وری ۔۔ وہ آجائیں گی ۔۔تم سے بہت پیار کرتی ہیں وہ ۔۔
آپ دیکھنا وہ نہیں آئیں گی ۔۔ رامین نے منہ بسورا ۔۔ کیونکہ وہ آئیں گی تو امی ابو کی طرف سے اُن کی اپنی شادی کے لئے دباؤ بڑھے گا ۔۔
رامین۔۔ منتہیٰ اپنے پرابلمز بہتر طور پر خود فیس کر سکتی ہیں ۔۔ انہوں نے شادی نہیں کرنی ۔۔ وہ سنبھال لیں گی سب کچھ۔۔
ارمان کی آنکھوں میں کرچیاں سے اتری تھیں مگر ۔۔ وہ نارمل تھا ۔۔
لیکن وہ تو شادی سے انکار نہیں کر رہیں ۔۔
کیا مطلب ۔۔؟؟ ۔۔ارمان کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ میں گرا ۔۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا
جی ۔۔ شادی تو وہ کر لیں ۔۔ مگر ۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ ۔۔ وہ ایک لمحے کو رکی ۔۔ اپنے دولہا کو تو وہ کچھ عرصے پہلے ناراض کر بیٹھی ہیں ۔۔ رامین کی مسکراہٹ بہت گہری تھی ۔۔
تمہیں کس نے بتایا یہ سب ۔۔؟؟ ارمان نے سامنے دھرے کولڈرنک کے گلاس کو گھورتے ہوئے پوچھا
کس نے بتانا تھا ۔۔۔؟؟ آپی آپ کو بہت مس کرتی ہیں ۔۔۔
تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے رامین ۔۔
بلکل بھی نہیں ۔۔ یو نو واٹ، بہنیں ایک دوسرے سے بہت کچھ چھپا سکتی ہیں ۔۔ لیکن حالِ دل نہیں ۔۔ میں نے بارہا نوٹ کیا ۔۔ وہ آپ کے نام پر چونکتی ہیں ۔۔ لمحوں میں انکی آنکھوں کے کنارے بھیگتے ہیں ۔۔
انہوں نے ایک بڑی چوٹ کھائی ہے رامین۔۔ وہ صرف شرمندہ ہیں ۔۔ مجھ ہی سے نہیں ، اپنی ذات سے منسلک اور بھی کئی رشتوں سے ۔۔ میں نے واپس آکر اِسی لیے رابطہ نہیں رکھا تھا کہ میں انہیں مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
وہ بہت مضبوط ہیں ۔۔ ڈونٹ وری ۔۔ وہ موو آن کر جائیں گی ۔۔ ارمان سفاکی کی حد تک حقیقت پسند تھا ۔
’’جی نہیں ۔۔ وہ آپ سے محبت کرتی ہیں ۔۔‘‘
اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ ٹوٹ کر بکھریں نہیں ۔۔ موو آن کر جائیں ۔۔ تو پلیزایک دفعہ جاکر ان سے ملیے گا ضرور ۔۔رامین اپنا بیگ اٹھا کر کب کی جا چکی تھی ۔۔ اور ارمان اپنی جگہ گنگ بیٹھا رہا ۔۔
She is in love with you….!!
وہ ایک ایک کر کے رامین کے کہے الفاظ کی چاشنی اپنے اندر انڈیلتا گیا ۔۔ لیکن نہیں ۔۔
رامین کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔ اُس نے سر جھٹک کر ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا ۔

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

جاری ہے
************

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں