آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

بہت سارے دلوں کو توڑتا
بہت سے اَشکوں کو بہاتا
لاکھوں گھروں کو تباہ کرتا ۔۔
ہزاورں جانوں سے کھیلنے کے بعد۔۔
طوفان تھم چکا ہے ۔۔
خدا نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا۔۔
کہ اُس مقام پر جا ؤ۔۔
اور۔۔
مصیبت میں گھرے لوگوں کو
اپنے مضبوط پروں کی پناہ میں لے لو
تاکہ آفت سے لڑتے لڑتے
وہ تنہا نہ رہ جائیں ۔۔
****************


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


نیا سمسٹر ، نئے سبجیکٹ ،نئے چیلنجز! منتہیٰ اِن سب سے نمٹنے کے لئے بھرپور توانائی کے ساتھ تیار تھی ۔۔ ۔جس کی ابتداریسرچ سینٹر کے ڈسکشن پارٹ ٹو سے ہوئی تھی۔
ایک دفعہ پھر وہ سب کیل کانٹوں سے لیس ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے ۔سپار کو سینئرز نے بات کا آغاز کرتے ہوئے بال ارمان کے کورٹ میں ڈالی۔ مسٹر ارمان آپ لوگوں کے سمسٹر امتحانات کے باعث یہ عرصہ کچھ طویل ہو گیا ۔ “میرا خیال ہےکہ اب تک اپنے پراجیکٹ کے متعلق آپ کوئی حتمی فیصلہ کر چکے ہوں گے۔۔؟؟؟۔”
ارمان نے کھنکار کر گلا صاف کیا ، جی سر ہم نے دو ماہ میں ہر زاویئے سے پراجیکٹ کا مکمل جائزہ لیا ہے اور اُس کے بعد ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ارمان نے ایک لمحے کو رک کر سب کے چہروں کو باری باری دیکھا ۔
“اگر ہم واقعی قدرتی آفات سے نہتی لڑتی عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے طور پر ایک کیمپئین کا آغاز کرنا ہوگا ”
“جہاں حکومتیں نا اہل ہوں وہاں پھر عوام ہی میں سے کچھ لوگ اٹھ کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ ہم کوئی نئی این جی او بنانے نہیں جا رہے بلکہ ہم ایک ایسی تحریک کا آغاز کرنے جا رہے ہیں جو آج بہت سوں کو ایک دیوانے کی بَڑ معلوم ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہماری لگن سچی ہے۔ توہم بہت کچھ نہ سہی اپنے عوام کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کر لیں گے ‘ ارمان کا لہجہ دھیما مگرپُر عزم تھا ۔
ڈسکشن روم کے پن ڈراپ سائیلنس کو ڈاکٹر عبدالحق اور ڈاکٹر حیدر خان کی مدہم سی تالیوں کی آواز نے توڑا ۔
“ویل ڈن بوائے! مجھے آپ سے یہی توقع تھی، آج کا ہر نوجوان اگر انفرادی طور پر اِسی جذبے سے سرشار ہو تو کوئی شک نہیں کہ ہم گورنمنٹ کے تعاون کے بغیر اپنے ہم وطنوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں “۔ ڈاکٹر عبدالحق کے لہجے میں ارمان کے لئے ستائش تھی
شہریار نے گردن اُونچی کر کے منتہیٰ کو دیکھا ۔۔جو بدستور سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ کی انگلیوں میں ڈیٹا ٹر یولر گھما رہی تھی ۔
“مس دستگیر ۔اب تو آ پ کو ہمارے پراجیکٹ پر کوئی خاص اعتراض نہیں رہا ہوگا ؟؟ “۔۔وہ پو چھے بنا نہ رہ سکا
“یو نو واٹ مسٹر ، کہ اِس دنیا میں پرفیکٹ صرف خدا کی ذات ہے۔۔ باقی ہر شے میں خامیاں بھی ہیں اور نقائص بھی، پہلے بھی میرا مقصد آپ کے پراجیکٹ میں کیڑے نکالنا یا رخنے ڈالنا ہر گز نہیں تھا ۔میں صرف یہ چاہتی تھی کہ ایک مکمل ریموٹ سینسنگ سسٹم اِس طرز پر تیار کیا گیا ہے تو اِ س سے عوام کو ریلیف بھی ملے “۔۔ منتہیٰ کا لہجہ سخت تھا
“سر میں نے ایک پریزینٹیشن تیار کی ہے میں آ پ لوگوں کو دکھانا چاہوں گی۔۔ اُس نے اجازت طلب کی
سیکنڈ سمسٹر کے امتحانات کے بعد منتہیٰ کا سارا ٹائم اسی ریسرچ میں گزر ا تھا ۔ کپمین کے لئے کئی ہفتوں کی محنت سے تیار کی گئی اس کی پریزینٹیشن کا پہلا بنیادی نکتہ تھا ‘ سسٹم کے ذریعے سائنٹیفک بنیادوں پر قدرتی آفات کی زد پر رہنےوالے علاقوں کا مکمل سروے ۔
نمبردو۔ اِن علاقوں کو لاحق خطرات کی بروقت تشخیص ۔
نمبر تین ۔ایک ایسی باقاعدہ مہم جس کے ذریعے اِن علاقوں کی عوام کو خطرات سے آگاہ کر کے ڈیسازٹر سے اَزخود نمٹنے کی ٹریننگ دی جائے ۔
نمبر چار۔ ریسکیو سینٹر ز کا قیام اور ان میں ٹریننگ کے لئے مقامی افراد کی بھرتی۔ جس سے انہیں بڑے پیمانے پر روزگار کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔
نمبر پانچ۔ اِن علاقوں خاص طور پر شمالی علاقہ جات میں بڑ ھتی ہوئی انتہا پسندی پر قابو۔ کیونکہ ڈیسازسٹر سے نفسیاتی طور پر متاثربے روزگار نوجوانوں کو پاکستانی اور افغان طالبان گروپ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔
تقریباٌ آدھے گھنٹے کی پریزینٹیشن نے کانفرنس روم میں موجود ہر شخص کو متاثر کیا تھا ۔۔ حتیٰ کے تھوڑی دیر پہلے اُس سے چڑےبیٹھے شہریار نے بھی تالیاں بجا کر بھرپور داد دی تھی ۔
ویل مس دستگیر۔میں چاہوں گا کہ آپ اِس پریزینٹیشن کی ایک کاپی مجھے اور سپارکو آفیسرز کو بھی دیں ،ارمان نے بات کرنے میں پہل کی ۔
جی ضرور !مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔ منتہیٰ نے بنا پس و پیش ڈیٹا ٹریولر ارمان کی طرف بڑھایا ۔
۔۔۔Guys you are playing well
ایک ہفتے بعد پھر میٹنگ رکھتے ہیں ۔۔ آفیسرز کو کسی کام سے جانا تھا ۔۔سو وہ تیزی سے الوداعی کلمات کہتے ہوئے جا چکے
تھے۔۔ ان کے پیچھے منتہیٰ بھی ۔۔اور فاریہ اور ارحم کی توقع کے بر خلاف ۔
’’ وہ آج بھی فاتح لوٹی تھی ۔۔۔‘‘
****************

مکمل تیاریوں کے ساتھ ٹھیک دو ہفتے بعد وہ سپارکو کے ریسرچ سینٹر کے پلیٹ فارم سے زمین کو بچاؤ تحریک (Save the earth) کا آ غاز کر رہے تھے جس کا ایجنڈہ اور مقاصد ارمان یوسف نے منتہیٰ کی پریزینٹیشن کی مدد سے خود تحریر کئے تھے ۔
ابتدائی طور پر اس کمپین میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں ریسرچ سینٹر کے آفیسرز اور عملہ ، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور پنجاب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس اور ٹیچرز شامل تھے ۔۔
کمپین ہیڈ ارمان یوسف کی ابتدائی تقریر مختصر لیکن مدلل تھی ۔ بے شک وہ ایک اچھا مقرر تھا ۔
’’لگ بھگ چھ ماہ پہلے جب ہم نے ریموٹ سینسنگ پر اپنے پرا جیکٹ کا آغاز کیا تھا ۔۔تو ہمارا مقصد صرف اور صرف سمیسٹر کاپراجیکٹ پورا کرنا تھا ۔۔ ۔لیکن اس دوران اکتوبر میں آنے والے ایک خوفناک زلزلے نے ہماری توجہ ڈیسازسٹر مینجمنٹ کے طرف مبذول کروائی ۔”
“کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ کی نیت صاف ہو تو پھر راستے کے پتھر کچھ معنی نہیں رکھتے “۔ اللہ پاک کی بھر پور مدد ہمارے ساتھ تھی سو چند ہی ماہ میں ہمارے پراجیکٹ کو لمس سے سپارکو تک بوسٹ ملا ۔۔میں سپارکو کے سینئر آفیسرزاور مس منتہیٰ دستگیر کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک رفاحی تحریک کی جانب ہماری راہنمائی کی ۔
“ہمیں بخوبی علم ہے کہ جو کام ہم شروع کرنے جا رہے ہیں وہ قطعاٌ آسان نہیں ہمارے پاس وسائل کم ہیں اور مسائل بے پناہ ۔۔
“لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آج تک وہی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں جن کی ابتداء چھوٹے پیمانے پر بہت کم وسائل کے ساتھ کی گئی ۔۔فائیوسٹار ہوٹلوں میں سیاستدانوں اور بزنس مینز کے آشیرواد سے جنم لینے والی این جی اوز صرف فائلوں یا بینک اکاؤنٹس تک محدود رہتی ہیں۔۔ جن کے اکاؤنٹس میں جمع کی جانے والی چیریٹی دراصل وہ کالا دھن ہے جو ہمارے سیا ستدان عوام کا خون چوس کر حا صل کرتے ہیں۔ ان این جی اوز کے سائے تلے جو گھناؤنے کھیل ۔۔کھیلے جارہے ہیں وہ اب عوام کی نظروںسے پوشیدہ نہیں رہے ۔”
“کسی بھی ڈیساسٹر سے نمٹنے کے لئے اپنی شرائط پر امریکہ اور یورپ سے ملنے والی گرانٹ دراصل بھیک کے وہ ٹکڑے ہیں جو عیاش اپنی من مانیاں جاری رکھنے کے لیے انہیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ اور ہمارے بے ضمیر ، ننگِ انسانیت حکمران اسے من و سلویٰ سمجھ کے قبول کرتے ہیں۔”
ارمان کی تقریر کے بعد ریسرچ سینٹر کے سینئر آفیسر ڈاکٹر عبدالحق نے اپنی مختصر تقریر میں پچھلے دو تین ماہ میں ان سب، خاص کر ارمان اور منتہیٰ کی کارکردگی کو بھرپور سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
“ہمیں یقین ہے کہ آپ نوجوان نیک نیتی سے جو بیج بو رہے ہیں وہ چند برس یا ایک عشرے بعد تناور درخت بن چکے ہونگے، جن کی گھنی ، میٹھی چھاؤں سے آنے والی نسل مستفید ہوگی”۔
میں سیو دی ارتھ کے بورڈ آف گورنرز کے لیے ڈاکٹر حیدر اور ڈاکٹر عقیل احمدکے نام تجویز کرہا ہوں۔ جبکہ باقی عہدیداروں کے انتخاب کے لیے آپ سٹوڈنٹس آزاد ہیں ۔ مگر کچھ پوائنٹس میں یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
رفاحی کاموں کو تیزی سے زیادہ نیک نیتی ، ان تھک محنت اور استقامت کامیاب بناتی ہے۔بے شک آپ کو آگے بڑھنے کے لیئے ایک کثیر سرمائے کی ضرورت ہوگی، مگر خدمتِ خلق سے وابستہ افراد تب ہی آپ کی مالی مدد کریں گے جب آپ شب و روز محنت سے اپنا ایک معیار بنائیں گے۔ انشاء اللہ آہستہ آہستہ یوتھ آپ کے ساتھ شامل ہوتی جائے گی ۔بلاشبہ کسی بھی قوم کی اصل قوت اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں ۔”

جاری ہے
****************

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں