The news is by your side.

Advertisement

آج بابائے اردو مولوی عبدُالحق کی برسی ہے

آج بابائے اردو مولوی عبدالحق کا یومِ وفات ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے اس نام وَر ماہرِ لسانیات، ادیب، محقّق اور معلّم نے 1961ء میں آج ہی کے دن ہمیشہ کے آنکھیں موند لی تھیں۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق 20 اپریل 1870ء کو ہندوستان کے ضلع میرٹھ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1894ء میں علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔ علی گڑھ میں حصولِ تعلیم کے دوران سر سیّد احمد خان کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا جن کے افکار اور نظریات کا مولوی عبدالحق پر بھی گہرا اثر ہوا۔

1895ء میں حیدر آباد دکن میں ایک تعلیمی ادارے میں تدریس کا موقع ملا اور ملازمت کی غرض سے وہاں چلے گئے۔ ترقّی پاکر صدرِ مہتمم تعلیمات ہوئے اور اورنگ آباد منتقل ہوگئے۔ بعد میں یہ ملازمت چھوڑ کر عثمانیہ کالج اورنگ آباد کے پرنسپل ہوگئے اور 1930ء میں اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

فارسی اور اُردو ادب، تاریخ و فلسفہ کے شوق نے مولوی عبدالحق کو مطالعہ کی طرف راغب کیا اور بعد میں اردو زبان کے ایک محسن اور مفکر کی حیثیت سے اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج، تدریس اور نشر و اشاعت کے لیے وقف کردی۔ غور و فکر اور مشاہدے کے ساتھ انھوں نے اردو زبان اور اصنافِ ادب کا تحقیقی اور تنقیدی پہلوؤں سے جائزہ لیا اور اس حوالے سے مضمون لکھے۔ انھوں نے اردو لغات کی ترتیب و تدوین، مختلف اصطلاحات وضع کرنے کا مشکل کام نہایت خوبی سے نبھایا۔ بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے یوں تو متعدد علمی اور ادبی کارنامے گنوائے جاسکتے ہیں، لیکن اردو زبان کے لیے ان کی تحقیقی اور لسانی کاوشوں کی وجہ سے انھیں‌ اردو کا عظیم محسن کہا جاتا ہے۔

مولوی عبدالحق نے اردو میں تنقید و مقدمہ نگاری کے علاوہ مختلف تصانیف، تالیفات پر تبصرہ اور جائزہ لینے کے فن کو ایک نیا ڈھنگ عطا کیا۔

مولوی عبدالحق کا ایک کارنامہ انجمن ترقیِ اردو ہے جسے انھوں‌ نے فعال ترین تنظیم اور علمی ادارہ بنایا اور اس انجمن کے تحت لسانیات اور جدید علوم سے متعلق کتابوں کی اشاعت اور علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد مولوی عبدالحق نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور یہاں اردو کالج کی بنیاد رکھی جہاں آج بھی آرٹس کے علاوہ سائنس اور قانون کی تعلیم دی جارہی ہے۔

مولوی عبدالحق نے حیدرآباد دکن میں اسکول و کالج‌ میں تدریس کے علاوہ جامعہ عثمانیہ میں ملازمت کے دوران اردو زبان کے لیے خدمات انجام دیں، جامعہ عثمانیہ دکن کے آخری حکم ران اور علم و فنون، زبان و ادب کے عظیم سرپرست میر عثمان علی خان کی ذاتی دل چسپی سے قائم کردہ مشہور درس گاہ تھی جس کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ بابائے اردو نے لغت اور فنون و سائنس سے متعلق اصطلاحات کا اسی زمانے میں اردو ترجمہ کیا۔

بابائے اردو کی تصانیف، تالیفات متعدد ہیں تاہم چند ہم عصر(خاکے)، مخزنِ شعرا، اردو صرف و نحو، افکارِ حالی، سر سید احمد خان، پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کا مسئلہ بہت اہمیت کی حامل ہیں‌۔

وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے عبد الحق کیمپس کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں