The news is by your side.

Advertisement

مغل بادشاہ نور الدّین جہانگیر اور زنجیرِ عدل

نورالدین جہانگیر اپنے والد شہنشاہِ ہند جلال الدین اکبر کی وفات کے بعد 1605ء میں تخت نشین ہوئے۔

شہنشاہ اکبر بے اولاد تھے۔ انھیں بزرگ شیخ سلیم چشتی نے دعا دی کہ اللہ تمہاری اولاد کی آرزو پوری کرے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ 1569ء میں پیدا ہونے والے بچّے کا نام انہی بزرگ کے نام پر سلیم رکھا گیا تھا جو بعد میں نورالدّین جہانگیر کا لقب اختیار کرکے تخت پر بیٹھا۔

شہزادہ سلیم ذہین تھا، جلد ہی امور سلطنت میں بھی دل چسپی لینے لگا، مؤرخین کے مطابق اس کی چھٹی شادی تخت نشینی کے بعد مہرالنساء بیگم (نورجہاں) سے ہوئی۔

شہزادہ سلیم نے تخت نشینی کا کئی روز تک جشن منایا، قیدیوں کو رہا کیا، اپنے نام کا سکہ جاری کیا، مخالفین سے نرمی برتی، سلطنت میں جو فوری اصلاحات نافذ کیں ان میں محاصل منسوخ کرنا، سڑکیں، مساجد، کنویں اور سرائیں تعمیر کروانا، شراب اور تمام نشہ آور اشیاء کی فروخت اور استعمال پر پابندی، وراثت کے قوانین پر سختی سے عمل کا حکم جاری کیا۔ مجرموں کے ناک کان کاٹنے کی سزائیں منسوخ کر دیں۔

جہانگیر کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہ تھا، لیکن اسے تخت نشین ہوئے چھ ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ اس کے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی، جسے اس نے فرو کیا اور کئی مہمات اور بغاوتوں یا سازشوں سے نمٹتا رہا۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے محل کے باہر زنجیرِ عدل اسی بادشاہ کے حکم پر لٹکائی گئی تھی اور مشہور کتاب تزک جہانگیری بھی اسی کی یادگار ہے۔

1627ء میں آج ہی کے دن جہانگیر کا انتقال ہوگیا تھا۔ دریائے راوی کے کنارے باغ دلکشا لاہور اور موجودہ شاہدرہ میں اس کی تدفین کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں