The news is by your side.

Advertisement

معروف افسانہ نگار اور شاعرہ وحیدہ نسیم کا تذکرہ

اردو کی ممتاز افسانہ و ناول نگار اور شاعرہ وحیدہ نسیم کا آج یومِ وفات ہے۔

وحیدہ نسیم 9 ستمبر 1927ء کو اورنگ آباد، حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں اور ہجرت کرکے کراچی آبسیں۔ انھوں نے عثمانیہ گرلز کالج حیدرآباد دکن سے 1951ء میں ایم ایس سی کیا اور 1952ء میں پاکستان منتقل ہوگئیں۔ نباتیات ان کی مہارت کا مضمون تھا اور یہاں وہ اسی کی تدریس سے وابستہ تھیں۔ وہ 1987ء میں کراچی کے ایک کالج سے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔

اپنی ملازمت کے ساتھ انھوں نے یہاں اپنا تخلیقی سفر اور ادبی سرگرمیاں‌ جاری رکھیں۔ وہ شاعرہ، ناول و افسانہ نگار اور محقّق بھی تھیں۔ انھوں نے جس دور میں اپنی شاعری کا آغاز کیا وہ ترقی پسند ادب کے عروج کا زمانہ تھا۔ انھیں شاعرہ کی حیثیت سے مقبولیت ملی جب کہ ان کے افسانے بھی پسند کیے گئے۔

وحیدہ نسیم متعدد کتابوں کی مصنف تھیں جن میں ’موجِ نسیم‘، ’نعت و سلام‘، ’مرثیہ کاکوری‘ (شاعری)۔ ’ناگ منی‘ ،’راج محل‘، ’رنگ محل‘ اور’دیپ‘ (افسانوی مجموعے) تھے۔ ان کی دیگر مشہور تصانیف میں ’اورنگ آباد: ’ملک عنبر سے اورنگ زیب تک‘، ’عورت اور اردو زبان(تحقیق)‘ اور ’شاہان ہے تاج‘ (تنقید) شامل ہیں۔ ’داستاں در داستاں‘، ’ساحل کی تمنا‘، ’غم دل کہا نہ جائے‘، ’شبو رانی‘، ’زخم حیات‘ بھی ان کی مشہور کتب ہیں۔

وحیدہ نسیم نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے بھی تحریر کیے۔ اردو زبان کی اس ادیب اور شاعرہ کی ایک کہانی پر ناگ منی نامی فلم بھی بنائی گئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں