The news is by your side.

Advertisement

اردو غزل اور ولی دکنی

اردو میں میں ولی دکنی کو غزل کا اوّلین شاعر تسلیم کیا گیا ہے جنھوں نے شاعری میں‌ فارسی غلبہ یا ایرانی تقلید کے برعکس اپنے کلام سے مقبولیت حاصل کی۔ وہ ریختہ کے اوّلین شاعر کہلائے۔ آج ولی دکنی کا یومِ وفات ہے۔

ولی کو میر تقی میر سے پہلے اردو غزل میں وہی مرتبہ حاصل تھا جو بعد میں اور آج تک میر کو حاصل ہے۔ ولی نے شعری اظہار کو نہ صرف یہ کہ ایک نئی زبان دی بلکہ ایک نیا شعری اظہار بھی دیا جو ہر طرح کے تصنع سے آزاد تھا۔

ولی نے ہندوستان کے شعرا کو اردو غزل میں اظہار کا نیا سانچہ دیا اور شاعری کو فارسی کے اثر سے آزاد کیا۔ انھوں نے اردو غزل کی تعمیر و ترقی اور مقبولیت کی وہ روایت قائم کی جس میں شعرا فارسی شعری روایت کو ترک کرنے پر مجبور ہوگئے۔

ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ تاہم اہلِ دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا اور اسی خیال کو تقویت حاصل ہے۔ ولی کے اشعار سے ان کا دکنی ہونا ثابت ہے۔

وہ قطب شاہی عہد میں 1667ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصولِ علم کے لیے احمد آباد آگئے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گزرا۔

اردو غزل کو عام کرنے کا سہرا ان کے سر ہی جاتا ہے۔ انھوں نے مثنوی، قصیدہ گوئی اور ر باعی کی صورت میں بھی شاعری کی۔ ان کے ہم عصر شعرائے کرام میں کسی اور شاعر کو اتنی مقبولیت نصیب نہ ہوئی۔ ولی کا کلام نہ صرف ہندوستان بلکہ یورپ کی کئی لائبریریوں کی زینت بنا۔ ناقدین کے مطابق ولی دکنی کے ہاں فلسفہ کی گہرائی اور علمی مضامین اور اخلاقی باتیں نہ ہونے کے باوجود ان کی شاعرانہ اہمیت مسلمہ ہے۔

ولی کے حالاتِ زندگی کی طرح ان کی تاریخِ وفات میں بھی اختلاف ہے تاہم زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ولی 31 اکتوبر 1708ء کے لگ بھگ فوت ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں