The news is by your side.

Advertisement

’’ڈیکسا میتھاسون دو دھاری تلوار قرار‘‘

لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون دو دھاری تلوار ہے اس کے بہت سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈیکسا میتھاسون کے استعمال کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کردئیے ان کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کا فائدہ وینٹی لیٹر کے مریضوں پر ہے لیکن پاکستان میں یا دنیا میں اس کا کوئی بھی کلینیکل فائدہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ میں درجنوں مریضوں کو ٹریٹ کررہا ہوں جو مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں یا جو مریض گردے کے مرض میں مبتلا ہیں ان کے لیے ہم دیگر دوائیں استعمال کررہے ہیں،۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیکسا میتھاسون کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے بہت سائیڈ ایفیکٹس ہیں اس دوا کے استعمال سے فالج اورگردوں کے مرض کا خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دوا کے استعمال سے شوگر آسمانوں پر چلی جائے گی اور بلڈ پریشر بہت بڑھ جائے گا، انفیکشن 20 گنا زیادہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل برطانیہ کے سائنسدانوں نے اسٹیرائیڈ دوا ڈیکسا میتھاسون کو کرونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر قرار دیا تھا۔ برطانوی سائنسدان پروفیسر پیٹر ہاربے کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کی پہلی دوا ہے جس نے کرونا میں اموات کو کم کر کے دکھایا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

گزشتہ روز برطانوی طبی ماہرین کی جانب سے کرونا کے خلاف جنگ میں موثر قرار دی جانے والی دوا ڈیکسا میتھاسون نے وینٹی لیٹر پر موجود معمر شخص کی جان بچائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں