اسلام آباد دھرنے کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہونا چاہیے، ترجمان پاک فوج dg ispr
The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد دھرنے کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہونا چاہیے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، ملک کا امن کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے، اسلام آباد دھرنا غیر سیاسی ہے خواہش ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو۔

اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آئین کی سربلندی کے لیے پاک فوج اپنا کام کرتی رہے گی، پاکستان کے تحفظ کے لیے شہداء جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور وطن کے دفاع کے لیے یہ سلسلہ آخری خون کے قطرے تک جاری رہے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیاب ہورہے ہیں، ملک میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو اُس اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتی اور نہ ہی کرے گی، خواہش ہے کہ ملکی ترقی کے لیے تمام ادارے مل کر آئین کی مضبوطی کے لیے کام کریں تاکہ پاکستان ترقی کرے‘۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ افغانستان کی وجہ سے فاٹا کے حالات خراب رہے ہیں تاہم فاٹا سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا، اب ہماری توجہ بلوچستان کی ترقی پر ہے، اس ضمن میں وزیر اعظم نے خوشحال پاکستان کے نام سے پروگرام متعارف کروایا جس کے لیے 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کو غیر مستحکم نہیں کیا جاسکتا، سوئٹزرلینڈ نے براہمداغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی اپیل مسترد کردی ہے‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے ساتھ ہمارے کوآرڈینیشن بہت اچھی ہے، وزیر اعظم بلوچستان کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ ہم سب مل کر ہی ملک کی ترقی کے لیے کام کرسکتے ہیں‘۔

اسلام آباد دھرنے سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد دھرنا غیر سیاسی ہے، خواہش ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوجائیں، دھرنے سے متعلق حکومت کو ہی فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ ادارے اہم ضرور ہیں مگر فیصلہ ریاست کو کرنا ہوتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں