The news is by your side.

Advertisement

”قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کوئی سازش نہیں ہوئی“

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔

نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر بابر افتخار نے کہا کہ شیخ رشید نے بیان دیا کہ اجلاس میں کسی چیف نے یہ نہیں کہا کہ عالمی سازش نہیں ہے، اجلاس میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور تینوں افواج کے چیفس موجود تھے، شرکا کو ایجنسی کی جانب سے تفصیلی طور پر بریفنگ دی گئی۔

بابر افتخار نے کہا کہ شرکا کو بتایا گیا کہ کسی قسم کی کوئی سازش نہیں ہوئی اور اس کے ثبوت نہیں ہیں، ایجنسی کا پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک کر ناکام ہے، آرمی چیف سمیت سب کو بریف کیا گیا کہ اس سارے میں معاملے میں کوئی سازش نہیں ہوئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سازش اور مداخلت جیسے الفاظ ڈپلومیٹ استعمال کرتے ہیں، مراسلے کے بعد جو بھی معاملہ ہوا ڈپلومیٹ سطح پر ہوا، میٹنگ میں بتایا گیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔

”مسلح افواج اور قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے“

میجر بابر افتخار نے کہا کہ فوج کے خلاف کچھ عرصہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، کچھ عرصے سے مسلح افواج اور لیڈر شپ کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر معمولی سطح پر مسلح افواج اور قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حقائق مسخ کر کے کسی شخص یا ادارے کو نشانہ بنانے کا حق کسی کو نہیں۔

”2020 سے دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا“

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے تو دفاعی بجٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے، دفاعی بجٹ سے متعلق درپیش چیلنجز اور تھریٹ کو بھی دیکھنا چاہیے، محدود وسائل میں رہ کر جو کچھ کر رہے ہیں خدا کا کرم ہے ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ دیکھ لیں جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف ہوتا ہے، بھارت ہمیشہ اپنی دفاعی تیاری کر رہا ہوتا ہے، ماضی دیکھ لیں ہمیشہ بھارت سے چیلنجز رہے ہیں، بھارت کی 13 لاکھ فوج کے مقابلے ہماری فوج ساڑھے 5 لاکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 50 ہزار فوجی مشرقی سرحدوں پر تعینات ہیں، ہماری 40 فیصد افواج مغربی بارڈر پر تعینات ہے اور باقی کنٹونمنٹ میں تعینات ہے، 2020 سے دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، مہنگائی کی شرح دیکھیں تو دفاعی بجٹ میں کمی ہوئی ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی شرح کے مطابق لگاتار نیچے جا رہا ہے۔

میجر بابر افتخار نے کہا کہ دفاعی بجٹ کم ہونے کے باوجود ہم ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں، حالیہ بجٹ میں دیکھیں تو ہم نے 100 ارب روپے دفاعی بجٹ میں کم لیے ہیں، یوٹیلٹی بل کی مد میں اخراجات کم کر رہے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی مشقوں کے بجائے چھوٹی مشقوں پر توجہ دے رہے ہیں، ٹرانسپورٹ اور غیر ضروری نقل و حرکت کم کر دی گئی ہے، کانفرنسز ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائیں گی، کورونا کی مد میں جو رقم ملی تھی اس میں 6 ارب روپے واپس کر دیے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عسکری ساز و سامان کے لیے گزشتہ بجٹ میں جو رقم ملی تھی اس میں ساڑھے 3 ارب واپس کیے، ملٹری رفاہی اداروں کی جانب سے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، فوجی فاؤنڈیشن کے ذریعے 20 لاکھ سے زائد مریضوں کا سالانہ علاج ہو رہا ہے۔

”آرمی چیف کا دورہ چین بہت اہم تھا“

میجر بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف کا دورہ چین بہت اہم تھا، جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے چینی صدر سے ملاقات کی، پاک چین تعلقات اسٹریٹیجک ہیں ہر مشکل میں ساتھ دیا گیا، آرمی چیف کے دورے سے دفاعی تعلقات اور ملٹری ڈپلومیسی کو فروغ ملا ہے، پاک چین تعلقات خطے کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اقتصادی راہداری کی سکیورٹی پر 24 گھنٹے کام کیا جا رہا ہے، چین نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے میں بہت فعال کردار ادا کیا، آرمی چیف کا دورہ چین پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت سے متعلق حکومتی سطح پر پیشرفت ہو رہی ہے، اقتصادی راہداری سے متعلق کام میں کوئی کمی نہیں آئی، آرمی چیف کا دورہ چین اقتصادی راہداری سے متعلق تھا، اقتصادی راہداری سے متعلق ایک اپیکس کمیٹی ہے جس کی صدارت چینی صدر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی میں چینی فوج کے سربراہان بھی شریک ہیں، اپیکس کمیٹی کی 2 سب کمیٹیوں میں ملٹری سطح پر معاملات دیکھے جاتے ہیں، آرمی چیف کے دورہ چین کے دور رس اثرات ہوں گے جو نظر آئیں گے۔

”بھارت نے لابنگ کی کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے“

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے کیا کچھ ہوا سب کو پتا ہے، بھارت نے لابنگ کی کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے، 2019 میں جی ایچ کیو میں ایک اسپیشل سیل قائم کیا گیا تھا، سیل نے 30 سے زائد مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیوں کے درمیان میکانزم بنایا، سیل نے دن رات کام کر کے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ پر لائحہ عمل بنا کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ لائحہ عمل پر تمام ڈیپارٹمنٹس نے کام کیا اور جو بھی پوائنٹس تھے ان پر کام کیا، 27 میں سے 26 پوائنٹس پر عمل کیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، فیٹف کے پوائنٹس پر عمل کی وجہ سے 53 ارب روپے ریکور کیے۔

”پرویز مشرف پاکستان واپس آجائیں تو خوشی ہوگی“

میجر بابر افتخار نے کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی طبیعت بہت خراب ہے، ادارے کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان واپس آجانا چاہیے، پرویز مشرف کی فیملی سے اسی لیے رابطہ کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ڈاکٹرز طے کریں گے کہ پرویز مشرف اس حالت میں سفر کر سکتے ہیں یا نہیں، پرویز مشرف کی صحت تشویش ناک ہے پاکستان واپس آ جائیں تو خوشی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں