site
stats
اہم ترین

جمہوریت کو پاک فوج سےکوئی خطرہ نہیں، میجرجنرل آصف غفور

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کنیڈین جوڑے کی بازیابی پر امریکی حکومت نے پاک فوج پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جمہوریت کو پاک فوج سےکوئی خطرہ نہیں، پاکستان نے گزشتہ8سال میں سیکیورٹی کے لیے بہت اقدامات کیے۔

ان خٰیالات کا اظہار انہوں نے  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کےاقدامات کی وجہ سےاچھےنتائج بھی حاصل کیے، امریکہ کے ساتھ ٹرسٹ بیس ریلیشن شپ ہی ہمیں آگے کی طرف لےجاسکتےہیں، اس کےنتائج بھی آناشروع ہوگئےہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں ایک کینیڈین فیملی کو اغواء کیا گیا تھا، امریکی حکام نے ملاقاتوں میں مغویوں کی بازیابی کی بات کی، امریکی حکام نےانفارمیشن دی تھی کہ مغویوں کو افغانستان سے پاکستان میں داخل کیاجارہا ہے۔

اغواء کاروں کے کرم ایجنسی میں داخلےکی اطلاع دی گئی، انفارمیشن کے مطابق جوانوں کو علاقےکی طرف بھیجا گیا، مغویوں کوبحفاظت نکالنےکیلئےآپریشن کیاگیا، دو گاڑیوں کوٹریس کیا اور ٹائروں پر فائرنگ کرکے اسے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی کوشش یہی تھی کہ مغویوں کواغواکاروں کے چنگل سے بحفاظت نکالاجائے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کا واپس جانا ضروری ہے، ڈیڑھ لاکھ رجسٹرڈ اور اتنے ہی غیر رجسٹرڈ افغان شہری پاکستان میں ہیں۔

اس موقع پرڈی جی آئی ایس پی آر نے مغوی اہل خانہ کے تاثرات پر مبنی ویڈیو بھی دکھائی

امریکا نے کامیاب کارروائی پر پاکستان اورپاک فوج پر اعتماد کا اظہارکیا، میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ملک میں بہت کچھ کرلیا، پاک فوج نے ملک کودہشت گردوں کےٹھکانوں سے پاک کردیا ہے، پاکستان میں اب کوئی نوگو ایریا نہیں ہے، پاکستان کےلیے ہم نےجو کچھ کرنا ہے کریں گے۔

احسن اقبال کے بیان سے بحیثیت فوجی بہت افسوس ہوا

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ احسن اقبال کا بیان سن کر مجھے بطور پاکستانی فوجی بے حد افسوس ہوا ہے، معیشت کے معاملے پر پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے اپنا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ میں نےاپنے بیان میں یہ کہیں نہیں کہا کہ پاکستان کی معیشت غیر مستحکم ہے، سیکیورٹی اچھی نہیں ہوگی تو معیشت کیسے بہتر ہوگی، ہم سب نے مل کربہت کام کیےہیں۔

معیشت کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ذاتی نہیں تھا، اس حوالے سے بیانات سیمینار کے بعد سامنے آئے، ایک سیمینارتھا جس میں آرمی چیف نےاظہار خیال کیا، معیشت اس وقت اچھی ہے جب ہرشہری مطمئن ہو، ہم متحد ہیں ہمیں ملک کو آگے لےکرچلنا ہے۔

جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم ہر وہ کام کریں گے جو آئین اور قانون کےاندر اور ملک کی بہتری کیلئے ہوگا، ہم سب نے مل کرملک کو مضبوط اور خوشحال کرنا ہے، ہم نےصرف چیلنجزکی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال حکومت نے ٹیکس کےنوٹس جاری کیے، گزشتہ سال ٹیکس کلیکشن نو فیصد ہوئی، ہم نے مضبوط ملک بننا ہے تو ذمہ دار شہری کی طرح ٹیکس دینا ہے۔

جمہوریت کو پاک فوج سےکوئی خطرہ نہیں

ملک نےترقی کرنی ہےتوحکومت کاچلنا بہت ضروری ہے، جمہوریت کو پاک فوج سےکوئی خطرہ نہیں، جمہوریت کو خطرہ جمہوریت کے تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے ہوگا۔

آئین اورقانون کےخلاف کوئی کام نہیں ہوگا، یہاں کھڑے ہوکر پاک فوج کے ترجمان کی حیثیت سے بات کرتا ہوں، اپنے الفاظ پر قائم ہوں، پنجاب میں آپریشن اس وقت تک نہیں ہوا جب تک حکومت نے فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے فیصلہ کرنے پر ہی آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد ہوئے کیونکہ فیصلہ حاکم وقت کا ہوتا ہے اورسویلین حکومت ہی آرمی چیف کا تقرر کرتی ہے، ہرچیز سویلین بالادستی کے تحت ہے۔

سوشل میڈیا ایک آلے کےطور پراستعمال ہورہا ہے

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا ایک آلے کےطور پراستعمال ہورہا ہے، کراچی کے حالات اب بہت بہتر ہوگئے ہیں، یہ شہر پاکستان کی معیشت کا انجن ہے۔

کیپٹن(ر) صفدرکےبیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا اس پر پہلےبات کرچکا ہوں، فوج میں ہرسال بہت سارےافسر ریٹائر ہوتے ہیں، میجر جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ کو متنازع نہیں بنانا چاہیے، فیصلے کیلئے تجاویز دی جاتی ہیں اور ایک فیصلہ لیا جاتا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top