The news is by your side.

Advertisement

گھریلو تشدد سے متعلق قوانین : نیا طریقہ کار نافذ

ٹوکیو : جاپان کی امیگریشن خدمات کی ایجنسی نے اپنے عملے کے لیے ایک مینوئل پر نظرثانی کی ہے تاکہ عملے کو گھریلو تشدد کا شکار زیرحراست غیرملکیوں کے مقدمات سے مناسب طور پر نمٹنے میں مدد مل سکے۔

یہ اقدام ناگویا میں واقع امیگریشن مرکز میں گزشتہ سال مارچ میں سری لنکا کی ایک خاتون وِشما سندامالی کی دردناک موت کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

مذکورہ خاتون کی موت سے متعلق ایجنسی کی حتمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکز کا عملہ جسے وشما کے گھریلو تشدد کا شکار ہونے کی معلومات کا پتہ چلا تھا، اسے اس سے متعلق مینوئل کا علم نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق کیونکہ اس نے مینوئل میں نہیں دیکھا تھا کہ ایسے فرد کے ساتھ کیسا رویہ رکھا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان نکات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر ایجنسی نے امیگریشن مراکز کے عملے کے مینوئل پر جزوی نظر ثانی کی ہے۔

دستاویز کے مطابق طلاق کے بعد سابق شوہر یا بیوی کی جانب سے کسی قسم کے تشدد کا شکار فرد کو گھریلو تشدد کا شکار فرد قرار دیا گیا ہے، اس میں گھریلو تشدد کی تفصیلات مثلاً جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔

امیگریشن ایجنسی کا منصوبہ ہے نظر ثانی شدہ مینوئل کو ملک بھر کے امیگریشن مراکز کو فراہم کیا جائے تاکہ اس کے بہتر نتائج اخذ کیے جاسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں