The news is by your side.

Advertisement

ہماری کہکشاں کے وسط میں ایک بڑا بلیک ہول دریافت

واشنگٹن : سائنس دانوں کے کہکشاؤں میں بلیک ہولز کی موجودگی کے دعوے سچ ثابت ہوئے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ہماری ملکی وے کہکشاں کے وسط میں ایک درجن سے زائد بلیک ہول موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کئی دہائیوں قبل کی گئی پیش گوئی کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے مطابق ہماری کہکشاں کے درمیان میں متعدد بلیک ہولز موجود ہیں، جو ایک وسیع بلیک ہول کے گرد جمع ہیں۔

کئی سال پہلے سائنس دانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کہکشاں کے گرد بلیک ہولز موجود ہیں، لیکن اُس کے شواہد نہیں ملے تھے، تاہم اب کہکشاں کے بیچ میں بڑے بلیک ہول شواہد مل گئے ہیں۔

سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ہے۔ سیجیٹیریئس اے کے ارد گرد 300 سے 500 بائنریز اور دس ہزار کم کمیت کے بلیک ہولز موجود ہیں۔

نیو یارک میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ٹیلی سکوپ آرکائیو ڈیٹا سے وصول ہونے والی تصاویر پر تحقیق کی۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق کہکشاں میں ایک درجن زائد غیر فعال ’بائینری سسٹمز‘ دریافت ہوئے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ہماری کہکشاں کے بیچ میں سیجیٹیریئس اے نامی بہت وسیع بلیک ہول موجود ہے۔


کہکشاں کے نظروں سے اوجھل ہونے کا خدشہ


تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جیسے جیسے گیس اور غبار سے باہر موجود چھوٹے بلیک ہول اپنی توانائی کھوتے جاتے ہیں، وہ خود سے بڑے بلیک ہولز کے زیر اثر آجاتے ہیں۔

کولیمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیلی کا کہنا تھا کہ ’کہکشاں کا وسط کرۂ ارض سے اتنا دور ہے کہ تیزروشنی بھی ایک ہزار سال میں ایک بار ہی دیکھی جا سکتی ہے۔‘


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں