The news is by your side.

Advertisement

فاروق ستار کا تحریک شروع کرنے کا اعلان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کی تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رمضان کے بعد تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق پی آئی بی گراؤنڈ میں ایم کیو ایم کے 37ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آئندہ سال ایم کیو ایم کا 38واں یومِ تاسیس ایک ہی ہوگا۔

انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان میں واپسی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا آئندہ سال ہونے والا یومِ تاسیس ایک ہی مقام پر ہوگا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ’اس وقت بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں، رمضان کے بعد کراچی کے مسائل کو اجاگر اور انہیں حل کرنے کے لیے  تحریک کا آغاز کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ملک میں ہرطرف مایوسی پھیلی ہوئی ہے،تمام سیاسی جماعتیں مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں، اسی وجہ سے عوام ملک کےپارلیمانی اورجمہوری نظام سے مایوس ہوچکے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ’اُس نے میری ذات پر کیچڑ اچھالا ہے‘ : شاعرانہ انداز میں جواب

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’سیاسی حالات خراب ہونے کے باوجود آج بھی نظریاتی اور اجتماعی سیاست زندہ ہے،وعدہ کیا تھا نظریاتی تحریک اور نظرئیےکو قائم کرکے دکھاؤں گا،کارکنان کی جلسے میں شرکت اس کامیابی کی نوید ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’سندھ نہیں پورےپاکستان کے سیاسی عمل کو سینیٹائز کریں گے،جس دن درست مردم شماری ہوگئی اس دن وڈیڑہ شاہی کاخاتمہ ہوجائے گا‘۔

واضح رہے کہ 22 اگست 2016 کو ہونے والی ملک مخالف تقریر، ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی اور اے آر وائی نیوز کے دفتر پر ہونے والے حملے کے بعد 23 اگست 2016 کو  ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی اختیار کر کے ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی سنبھالی تھی، بعد ازاں اندرونی اختلافات اور دیگر وجوہات کی بنا پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کی رکنیت خارج کردی تھی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام عائد کیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں ’چار افراد کا کرپٹ ٹولا‘ احتساب کے خلاف ہے، چونکہ احتساب کا عمل شروع ہونے والا تھا تو ایسے لوگوں نے مجھے پارٹی سے باہر کروا کر قبضہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: یوم تاسیس: ایم کیو ایم کا حکومت سے نئی مردم شماری کا مطالبہ

یہ بھی یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر فیصل سبزواری سمیت دیگر قیادت نے فاروق ستار کو متعدد بار ایم کیو ایم میں واپسی کی پیش کش کی اور انہیں کہا کہ ہمارے دروازے کھلے ہیں، آئیں رابطہ کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں