The news is by your side.

Advertisement

‏’جدید تعلیم کے ساتھ ادب کا مطالعہ ناگزیر ہے’‏

کراچی: معروف شاعر اور اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا کہنا ہے کہ سائنس اور ‏ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ علم و فنون، ادب اور شاعری کا مطالعہ نہ صرف کسی بھی ‏شعبے میں کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے بلکہ بہتر انسان بننے کے لئے بھی شاعری اور ادب ‏سے رشتہ استوار رکھنا انتہائی اہم ہے۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ موضوعاتی کیلنڈر کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا ‏کہنا تھا کہ انسان کو اپنی تخلیق کا مقصد جاننے کی جستجو کرتے رہنا چاہیے اپنے آپ کو جاننے ‏اور بہتر انسان بننے کے لئے ادیبوں اور شاعروں کو پڑھنا ازحد ضروری ہے۔

‏”عظیم اردو شعراء کی نظر میں انسان کا تصور” کے موضوع پر سن 2020 کا موضوعاتی کیلنڈر جہان ‏مسیحا ادبی فورم نے جاری کیا ہے جس میں 12 عظیم اردو شعراء کے اشعار میں تصور انسانیت کو ‏اجاگر کیا گیا ہے۔

اس موقع پر قائداعظم اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر، معروف ماہر نفسیات پروفیسر ‏ڈاکٹر اقبال آفریدی، معروف ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق، پروفیسر منصور احمد، ‏سید جمشید احمد، عبدالصمد اور دیگر موجود تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا کہنا تھا کہ جہان مسیحا ادبی فورم مقامی دوا ساز ادارے کے ‏اشتراک سے پچھلے بیس سالوں سے موضوعاتی کیلنڈر کا اجراء کررہا ہے اور یہ کیلنڈر معاشرے ‏میں علم و فنون اور ادب سمیت عظیم مشاہیر اور اسلامی تاریخ کے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں، ‏دیگر اداروں کو بھی معاشرے میں علم و فنون کے فروغ کے لیے سامنے آنا چاہیے۔

قائداعظم اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر اور معروف ادیب خواجہ رضی حیدر کا کہنا تھا کہ جہان ‏مسیحا ادبی فورم پچھلے بائیس سالوں میں تئیس کلینڈر جاری کر چکا ہے جن کے موضوعات سیرت ‏نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر عظیم مسلم سائنسدان، تاریخ پاکستان، شاعری اور ادب ‏رہے ہیں، اس سال کا موضوع عظیم اردو شعراء کی شاعری میں تصور انسان ہے اور اس موضوع کے ‏انتخاب ما مقصد عظیم انسانی اقدار کو سامنے لانا اور اچھا انسان بننے کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔

مقامی دوا ساز ادارے فارم ایوو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ ان کا ‏ادارہ نہ صرف لوگوں کی جسمانی بلکہ ذہنی اور فکری صحت کے لیے کوشاں ہے، پاکستان میں ایک ‏صحت مند معاشرے کا قیام صرف ادویات سے ممکن نہیں، ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے ‏لیے گزشتہ 22 سالوں سے ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ نہ صرف موضوعاتی کیلنڈر بلکہ کتابیں شائع کرتا ہے، ادیبوں اور ‏شاعروں کو اس سلسلے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے، ان کی جانب سے مشاعرے اور کتب ‏میلے منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ معاشرے میں ادب و شاعری کی تعلیم کو فروغ دیا جاسکے۔

سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں تحقیق کے فروغ کے لیے بھی گزشتہ دو ‏دہائیوں سے کوشاں ہے اور اب ان کی دیکھا دیکھی دیگر ادارے بھی تعلیم وتحقیق سمیت ادبی ‏سرگرمیوں کے فروغ کے لئے آگے آرہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے۔

معروف ماہر نفسیات پروفیسر اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ سالانہ کیلنڈر کے ذریعے ادب و فنون ‏سمیت شاعری کی تعلیم ایک اچھوتا خیال ہے، وہ بھی اب نفسیات کے جرنل میں شائع ہونے والے ‏اشتہارات میں شاعری اور اقوال زریں شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس موقع پر جہان مسیحا ادبی فورم کی جانب سے سے سنہ 2022 کے موضوعاتی کلینڈر کا ‏باضابطہ اجراء بھی کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں