The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں تیل فیکٹریوں پر ڈرون حملہ، پاکستان کا اظہار مذمت

ریاض/اسلام آباد: سعودی عرب کی تیل کی دو بڑی فیکٹریوں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں آگ لگ گئی، یہ فیکٹریاں سعودی عرب کی ریاستی ملکیت میں چلنے والی کمپنی چلاتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق غیر ملکی میڈیا نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی آئل کمپنی آرامکو کی دو فیکٹریز پر ڈرون حملے کیے گئے، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کر لی ہے۔

سعودی وزات خارجہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح دمام کے قریب کمپنی کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، آئل ریفائنری میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے حملے کے ذرایع سے متعلق کچھ نہیں بتایا ہے، اور ان کا یہ کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں، حملے میں جانی نقصان سے متعلق بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

ادھر سعودی عرب میں تیل فیکٹری پر حملے پر پاکستان نے شدید اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان 19 ستمبر کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم تیل کی فیکٹری پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان امید کرتا ہے کہ ایسے واقعات آیندہ نہیں ہوں گے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ایسے واقعات سے علاقائی امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، پاکستان امن و سلامتی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان 19 ستمبر کو 2 روزہ دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں، سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ ان کے ہم راہ وزیر خارجہ، مشیر خزانہ، مشیر تجارت بھی ہوں گے۔

وزیر اعظم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، وزیر اعظم سعودی عرب سے ہی یو این اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں