The news is by your side.

Advertisement

مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا ایک اور فائدہ منظر عام پر

مچھلی دنیا بھر میں انسانوں کی سمندری غذائی ضرورت پورا کرنے کے لیے نہایت اہم گردانی جاتی ہے، اسی لئے صحت کے ماہرین اسے غذا کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اپنے دل کو زندگی میں امراض سے بچانا چاہتے ہیں ؟ تو مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بنالیں، یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

میکماسٹر یونیورسٹی کی جانب سے ساٹھ سے زیادہ ممالک میں ہونے والی متعدد بڑی تحقیقی رپورٹس کا گہرائی میں جاکر تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں محققین نے دریافت کیا کہ زیادہ چکنائی یا چربی والی مچھلی کھانے سے خطرے سے دوچار گروپ جیسے امراض قلب یا فالج کا سامنا کرنے والے افراد میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کی روک تھام ہوتی ہے۔

کیونکہ مچھلی میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو دل کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتے ہیں۔

تحققیق میں بتایا گیا کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور مچھلی ہفتے میں دو بار کھانا اس خطرے کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے مچھلی کو غذا کا حصہ بنانا تحفظ کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ مچھلی کو زیادہ کھانا بالخصوص چربی والی مچھلی کھانا دل کے امراض کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے مفید ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے، تاہم تحقیق میں امراض قلب یا فالج کا سامنا کرنے والے افراد میں مچھلی کے استعمال سے کوئی فائدہ دریافت نہیں ہوسکا۔واضح رہے کہ تین سال قبل ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ چربی والی مچھلی کو ہفتہ بھر میں چار بار کھانا جسم میں صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی شرح بڑھانے اور امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مچھلی ایچ ڈی ایل یا اچھے کولیسٹرول کی سطح بڑھاتی ہے خصوصاً ان افراد میں جن کی گلوکوز میٹابولزم کی صلاحیت متاثر ہوچکی ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں