اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس: بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر -
The news is by your side.

Advertisement

اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس: بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اقتصادی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق سمری بھی زیر غور آئی۔

اجلاس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کردیا گیا۔ نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں 3 روپے 82 پیسے اضافے کی تجویز دی تھی جبکہ پاور ڈویژن نے بھی بجلی کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کی تھی۔

اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی 4 بار بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ مؤخر کر چکی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے پہلے بجلی قیمتوں میں اضافہ ناگزیز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے ماہانہ 50 یونٹ تک استعمال والے صارفین کو استثنیٰ کی سفارش بھی کی ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے سالانہ 200 ارب اضافی حاصل ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اضافہ کیا بھی تو اتنا نہیں کریں گے، بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ بجلی واجبات کی وصولی کا عمل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وصولیوں کا عمل بہتر ہونے تک بجلی کی قیمت نہیں بڑھانے دوں گا، بدھ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ خصوصی اجلاس میں بجلی واجبات کی وصولیوں کا معاملہ زیر غور آئے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک ماہ سے وصولیاں بہتر بنانے کا کہہ رہے ہیں، نتائج نہیں مل رہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے جائزہ مشن سے مذاکرات بھی زیر غور آئے جبکہ بلوچستان کے لیے زرعی ٹیوب ویلز پر سبسڈی دینے پر بھی غور کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ غریب صارفین پر کم از کم بوجھ ڈالا گیا ہے، امیر طبقے کے لیے گیس قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

پچھلے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس قیمتوں کے سلیب میں بھی اضافہ کیا تھا جبکہ ایل پی جی کی درآمد پر ٹیکس کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا تھا جس کے بعد درآمدات سے ایل پی جی کی قیمت میں کمی ہونے کا امکان تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں