مصر میں چرچ پر حملے، 17 افراد کو سزائے موت۔متعدد لوگ مارے گئے تھے
The news is by your side.

Advertisement

مصر میں چرچ پر حملے، 17 افراد کو سزائے موت

قاہرہ: مصر میں چرچ پر حملوں میں ملوث 17 مجرمان کو سزائے موت سنا دی گئی، ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق 2016 اور 2017 میں مصر میں مسیحی برادری کے چرچ پر حملے کیے گئے تھے، جس کے باعث 74 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور کئی چرچ بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی عدالت نے ان حملوں میں ملوث 17 افراد کو سزائے موت سنائی ہے، جبکہ 19 افراد کو عمر قید کی سزا ہے۔

مصر میں ہونے والے مذکورہ حملوں کی ذمے داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی، سترہ افراد کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔

مصر کی فوجی عدالت کی طرف سے انیس افراد کو عمر قید اور دس ملزمان کو دس سے پندرہ برس کے درمیان قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

مصر: عدالت نے حکومت مخالف مظاہروں پر 75 افراد کو سزائے موت سنادی

خیال رہے کہ رواں سال جولائی میں بھی مصر میں 75 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، تمام افراد پر 2013 میں حکومت کے خلاف احتجاج کا الزام تھا، سزائے موت پانے والے تمام افراد سابق صدر مرسی کے حامی ہیں۔

یاد رہے کہ 2013 میں مصر کے اس وقت کے صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے حکومت سے باہر کرنے اور گرفتار کرنے کے خلاف قاہرہ میں عوامی احتجاج شدت اختیار کرگیا تھا اور طویل دھرنا دیا گیا تھا۔

اس سے قبل 14 اگست 2013 کو مصری فوج کی جانب سے اس دھرنے کو بزور طاقت منتشر کردیا تھا جس میں 600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مصر نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں