The news is by your side.

بجلی کمپنیوں کی نااہلی اور کام چوری قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے لگی

اسلام آباد: ملک بھر کی بجلی کمپنیاں اپنی نااہلی اور کام چوری سے بجلی فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد، قومی خزانے کو بھی سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچانے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کمپنیوں کی نا اہلی سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

حال ہی میں جاری کی گئی ایک دستاویز کے مطابق بجلی کمپنیوں کے زائد نقصانات اور عدم وصولیوں سے 1 سال میں 343 ارب روپے کا نقصان ہوا، بجلی کمپنیوں نے نقصانات کی مد میں قومی خزانے کو 113 ارب، اور صارفین سے واجبات وصول نہ کرنے کی مد میں قومی خزانے کو 230 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

سال 22-2021 میں بجلی کمپنیوں کے نقصانات نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے طے کردہ اہداف سے 3.72 فیصد زیادہ رہا۔

دستاویز میں کہا گیا کہ بجلی کمپنیوں کی واجبات کی وصولی کی شرح 90.51 فیصد تک ہے، گزشتہ سال کی نسبت واجبات وصولی کی شرح مزید 7 فیصد کم ہوگئی۔

واجبات کی عدم وصولی اور نقصانات سے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے، بجلی کمپنیوں میں گورننس کے مسائل بھی گردشی قرضہ بڑھنے کی وجہ ہیں۔

سال 22-2021 میں پشاور کی بجلی کمپنی پیسکو میں نقصانات کی شرح 37.47 فیصد رہی، حیدر آباد کی حیسکو میں نقصانات کی شرح 32.88 اور سکھر کی سیپکو میں نقصانات کی شرح 35.62 فیصد رہی۔

کوئٹہ کی کیسکو میں نقصانات کی شرح 28.07، ملتان کی میپکو میں 14.84، لاہور کی لیسکو میں 11.52، گوجرانوالہ کی گیپکو میں 9.07 فیصد اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی بجلی کمپنی آئیسکو میں نقصانات کی شرح 8.18 فیصد رہی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نیپرا نے نقصانات والے فیڈرز کو آؤٹ سورس کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں