The news is by your side.

Advertisement

ترک صدر نے کرد جنگجوؤں کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دھمکی دی ہے کہ معاہدے پر عمل نہ ہوا تو کردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کردوں نے سیز فائر کے مقررہ کردہ 4 دنوں کے دوران بارڈر سے ملحق سیف زون خالی نہ کیا تو ان کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹریو میں ترک صدر نے کہا کہ کرد فورسز کو سرحدی علاقہ فوری طور پر خالی کردینا چاہیے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو کرد فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔

ان کاکہنا تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہوئی اور وعدے پر عمل کیا گیا تو ’سیف زون‘ کا مسئلہ آسانی سے حل ہوجائے گا اور اگر معاہدے کے مطابق کردوں نے سرحدی علاقہ خالی نہیں کیا تو 120 گھنٹے مکمل ہوتے ہی کردوں کو منہ کھانا پڑے گی۔

شمالی شام میں معمولی جھڑپ تھی جو ختم ہوگئی، اردوان کی ٹرمپ کو یقین دہانی

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ترکی نے کردوں کو سرحدی علاقہ خالی کرنے کے لیے پانچ دن (120 گھنٹے) کی مہلت دی تھی۔

واضح رہے ترکی اپنے مشرقی سرحد سے ملحقہ شامی علاقے میں 35 لاکھ شامہ مہاجرین کو بساکر ایک ’سیف زون‘ بنانا چاہتا ہے تاہم اس علاقے سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد ایک بحران پیدا ہوا اور وہاں پر کردوں کی موجودگی پر ترکی نے علاقہ خالی کروانے کے لیے آپریشن شروع کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں