یورپی عدالت کا توہینِ رسالت پر خاتون کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

یورپی عدالت کا توہینِ رسالت پر خاتون کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ

برلن: انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے توہینِ رسالت کے جرم میں آسٹرین خاتون کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔ یورپی عدالت نے توہینِ رسالت کے معاملے کو آزادیٔ اظہار ماننے سے انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے توہینِ رسالت کے جرم میں آسٹرین خاتون کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ توہینِ رسالت آزادیٔ اظہارِ رائے کے زمرے میں نہیں آتی۔

توہینِ رسالت سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے، یہ اظہارِ رائے کی حدود سے تجاوز ہے: عدالت

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین مذہبی انتشار اور فساد کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ برلن کی عدالت میں 7 ججز پر مشتمل پینل نے سنایا، عدالت کا کہنا تھا کہ توہینِ رسالت سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے، یہ اظہارِ رائے کی حدود سے تجاوز ہے۔

انسانی حقوق کی عدالت نے  آسٹریا کی عدالت کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے محتاط ہو کر آزادئ اظہار کا دوسروں کے مذہبی احساسات کے تحفظ کے حق کے ساتھ موازنہ کیا تھا۔


یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کا نیدرلینڈز کے رکن پارلیمنٹ کے گستاخانہ ٹویٹ پر شدید احتجاج


واضح رہے کہ آسٹریا کی خاتون نے 2008 اور 2009 میں اسلام کے موضوع پر سیمینار کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا، آسٹریا کی عدالت نے 2011 میں خاتون کو توہینِ رسالت کا مرتکب قرار دیا۔

چالیس سالہ خاتون نے عدالتی فیصلے کے خلاف آسٹریا کی اپیلز کورٹ میں بھی اپیل کی تھی لیکن فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آج پاکستان نے نیدرلینڈز کے رکن پارلیمنٹ کے گستاخانہ ٹویٹ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے نیدرلینڈز کے پاکستان میں تعینات سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں