The news is by your side.

Advertisement

’فیس بک‘ کے بانی مارک زکربرگ یورپ کی سختیوں سے پریشان

سانس فرانسسکو: ڈیٹالیک اسکینڈل سامنے آنے کے بعد یورپی یونین کی جانب سےفیس بک پردباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صارفین کے ڈیٹا کو ذیادہ محفوظ بنانے کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈیٹا لیکس کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک پر دباؤ ہے کہ وہ فیس بک پرشائع ہونے والے مواد کے علاوہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور کوائف کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

یورپی یونین کے محکمہ ’جنرل ڈیٹا پروٹیکشن‘ نے گزشتہ سال مئی میں ڈیٹا اور لوگوں کے آن لائن حقوق کے حوالے سے قانون بنایا تھا جس کے مطابق کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بتائیں کہ وہ ڈیٹا کس مقصد کے لیے جمع کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اعدادوشمار سے متعلق قانون کی خلاف ورزیوں پر کم جرمانہ کیا جاتا تھا لیکن نئے قانون کے مطابق ڈیٹا قانون کی خلاف ورزی پرکمپنی کو جرمانے کی صورت میں عالمی سالانہ کمائی کا 4 فیصد جرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔

صارفین کے ڈیٹا کاغلط استعمال، فیس بک کے بانی نے غلطی تسلیم کرلی

یاد رہے کہ صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے بعد فیس بک کو تنقید اور تحقیقات کا سامنا ہے اور فیس بک کے پانچ کروڑ صارفین کے ڈیٹا کا سیاسی مشاورتی ادارے کی جانب سے غلط استعمال سامنے آنے پر تحقیقات جاری ہیں، صارفین کے ڈیٹا کا مبینہ طور پر امریکی صدارتی انتخاب میں استعمال کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں بھی ڈیٹا حاصل کرنے والے سیاسی مشاورتی ادارے کیخلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ فیس بک بانی مارک زکربرگ کو برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وضاحت کے لئے طلب کرلیا گیا ہے۔

’فیس بک‘ کے بانی مارک زکربرگ کے ایک ہفتے میں10ارب ڈالر ڈوب گئے

واضح رہے کہ ڈیٹا اسکینڈل کے باعث سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے بانی مارک زکربرگ کے ایک ہفتے میں دس ارب ڈالر ڈوب گئے جبکہ کمپنی کے حصص کی قیمت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں