The news is by your side.

Advertisement

بہت زیادہ گرم کپڑے پہنانا ننھے بچوں کے لیے مہلک

سردیوں کے موسم میں سب سے زیادہ فکر ننھے بچوں کی ہوتی ہے جنہیں معمولی سی بھی ٹھنڈ نزلہ، زکام، بخار یا کسی بڑی بیماری میں مبتلا کرسکتی ہے۔ تاہم بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے بہت زیادہ گرم کپڑے پہنانے سے بھی گریز کرنا چاہیئے ورنہ یہ آپ کے بچے کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

سردیوں میں خصوصاً مائیں اپنے بچوں کو ایک کے اوپر ایک گرم کپڑا پہنا دیتی ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ننھے بچوں کا جسم افزائش کے مراحل میں ہوتا ہے اور وہ بڑوں کے جسم کی طرح خود کو کنٹرول نہیں کرسکتا لہٰذا اس ضمن میں بھی خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

آئیں ان نقصانات کے بارے میں جانیں جو بہت زیادہ گرم کپڑے پہننے کی صورت میں آپ کے بچے کو لاحق ہوسکتے ہیں۔


خود کار درجہ حرارت

ہمارے جسم کا اندرونی نظام جسم کے درجہ حرات کو بیرونی درجہ حرارت کے مطابق رکھتا ہے تاہم ننھے بچوں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔

بہت زیادہ گرم کپڑے پہننے کے بعد ان کا جسم بہت گرم ہوسکتا ہے جو خود کار طریقے سے سرد نہیں ہوگا نتیجتاً بچے کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔


ہیٹ اسٹروک

کیا آپ جانتے ہیں بہت زیادہ گرم کپڑے پہنانا آپ کے بچے کو ہیٹ اسٹروک کا شکار بھی کرسکتا ہے؟

جی ہاں ننھے بچے کا بہت زیادہ گرم جسم جو بے تحاشہ گرم کپڑے پہننے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کے دل و دماغ پر بدترین منفی اثرات ڈال کر اسے موت سے ہمکنار بھی کرسکتا ہے۔


نمی کا اخراج

حد سے زیادہ گرم کپڑے بچے کو پسینہ پسینہ بھی کرسکتا ہے جس سے اس کے جسم کی نمکیات اور نمی پسینہ کے ذریعے خارج ہوسکتی ہیں اور بچہ بیمار پڑ سکتا ہے۔

گرم کپڑے پہنانے کے بعد بار بار بچے کے جسم کو چیک کرتے رہیں۔ اگر اسے پسینہ آتا محسوس ہو یا بچے کی سانس دھیمی چل رہی ہو تو فوری طور پر گرم کپڑوں کی تہیں کم کر کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔


سانس لینے میں مشکل کا سامنا

بہت زیادہ گرم کپڑے بچوں کی سانس کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔

خصوصاً رات کے وقت بہت زیادہ موٹے کپڑے پہنانے سے امکان ہوتا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بچے کے جسم سے باہر خاج ہونے کے بجائے واپس پھیپھڑوں میں چلی جائے لہٰذا رات کو سوتے ہوئے کم گرم کپڑے پہنائے جائیں اور جب والدین کی آنکھ کھلے بچے کو چیک بھی کرتے رہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں