The news is by your side.

Advertisement

کیا گہرے پانی میں گندی مگر انسان نما مخلوق رہتی ہے؟ تصویر کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر میانمار میں پائے جانے والے انسان سے ملتے جلتے عجیب الخلقت جاندار کی تصاویر وائرل ہوگئیں تاہم جلد ہی ان تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر یہ 5 تصاویر نہایت تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں ایک انسان نما مخلوق دریا کنارے بیٹھی دکھائی دے رہی ہے۔ ان تصاویر کو 200 سے زائد دفعہ شیئر کیا گیا۔

تصاویر کے ساتھ برمی زبان میں لکھے گئے ایک بلاگ میں کہا گیا کہ ناگو نامی یہ جاندار جو میانمار میں پایا جاتا ہے، اب معدوم ہوچکا ہے۔

اس بلاگ میں کہا گیا ہے کہ اس جاندار کی ہیئت انسان نما ہے اور اس کی ایک ٹانگ ہوتی ہے، اس کی پشت پر ایک نوکدار سرا ہوتا ہے جس کی مدد سے یہ درختوں پر چڑھتا ہے۔

بلاگ میں مزید کہا گیا کہ بھاگتے ہوئے اس کی رفتار تمام جانداروں سے تیز ہوتی ہے۔

ان تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین نے حیرت اور خوف کا اظہار کیا تاہم انٹرنیٹ کی مدد سے جلد ہی ان تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی۔

ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ تصاویر سنہ 2016 کی ثابت ہوگئیں۔ اس وقت شائع شدہ آرٹیکلز کے مطابق یہ دراصل ایک مجسمہ ہے جسے ایک فرانسیسی آرٹسٹ نے تیار کیا تھا۔

مجسمے کو چکنی مٹی، الجی اور سمندری گھاس سے بنایا گیا تھا اور اسے فرانس کے ایک نیچر ریزرو میں دریا کنارے نصب کیا گیا تھا۔

اس مجسمے کے بارے میں ایک فرانسیسی اخبار میں جو مضمون چھپا اس کے مطابق مصورہ نے یہ مجسمہ کراؤڈ فنڈنگ کی مدد سے اور اپنے شوہر کے ساتھ مل کر مکمل کیا جو خود بھی ایک ویژول آرٹسٹ ہیں۔

ایک فرانسیسی چینل نے اس پر ایک ویڈیو رپورٹ بھی تیار کی جو یوٹیوب پر موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں