The news is by your side.

Advertisement

جعلی شناختی کارڈ تحقیقات میں اہم انکشافات

کراچی: جعلی شناختی کارڈ کیس  کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے اور نادرا افسران کی سنگین غلطیاں پکڑی گئیں ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایرانی شہری کو  جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کے کیس کیس کی تحقیقات میں نادراافسران کی بڑی غلطیاں پکڑی گئیں ہیں۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ 1949میں پیداخاتون فاطمہ بی بی کو ماں ظاہر کر کے ایرانی شہری کا شناختی کارڈ بنایا گیا، فاطمہ بی بی کو  12 سال کی عمرمیں ماں ظاہر کیا گیا۔

افسران نےایرانی شہری کاجعلی شناختی کارڈ بنانے کے لیے اُس کی تاریخ پیدائش1959 ریکارڈ کی جبکہ ایرانی شہری کا اندراج جس گھرانے میں کیا گیا، اُس میں امام بخش نامی شخص کو بھائی کوظاہرکیاگیا، مینوئل شناختی کارڈ نمبر میں درج نمبر دوسری خاتون کا نکلا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ شناختی کارڈ جان بی بی نامی خاتون کا تھا۔

شناختی کارڈ رکھنے والا امام بخش ایرانی شہریت کا کارڈ اور پاسپورٹ رکھتا ہے، جسے 2017 میں ایران نے پاسپورٹ جاری کیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے اس کیس کے حوالے سے کئی اہم شواہد اور ریکارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی شناختی کارڈ کے اجراء میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مینول شناختی کارڈ2008میں پراسس کروا کے ڈیجیٹل شناختی کارڈ بنایا گیا، نارتھ ناظم آباد نادرا دفتر میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور عملے نے اس کام میں معاونت فراہم کی۔

ایرانی شہری نبی بخش نے سنگولین لیاری کے نائب ناظم سےکاغذات اور شناختی کارڈ کی تصدیق کرائی اور جعلی دستاویزات فراہم کیے۔ ایف آئی اے کے مطابق ایرانی شہری42301-0470994-1 جعلی شناختی کارڈ نمبرپر پاکستان بھر میں گھومتا رہا۔

ایف آئی اے کے مطابق نبی بخش کی گرفتاری کیلئےچھاپےجاری ہیں مگر ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ جعلی شناختی کارڈ کیس میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر التمش کو گلستان جوہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں