The news is by your side.

Advertisement

90ہزار کے دو انجکشن وہ بھی جعلی، مریض جان کی بازی ہار گیا

بریلی : بھارت میں کورونا وائرس کی خطرناک صورتحال کے باوجود ادویات مافیا لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے، وبا کے دوران لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے ٹھگوں کا کاروبار خوب پنپ رہا ہے۔

بھارت میں ادویات مافیا نے لوگوں کی جانوں سے کھیلنا شروع کردیا 90ہزار روپے میں فروخت کیے جانے والے دو انجکشن جعلی نکلے، اس بات کا انکشاف مریض کی موت کے بعد ہوا۔

بھارت کے شہر بریلی میں نقلی ریمیڈیسیور انجکشن کی فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے، بریلی کے رہائشی منوج اگروال کی طبیعت 19 اپریل کو خراب ہوئی تھی، اس کے بعد 26 اپریل کو پتہ چلا کہ انھیں کورونا ہوا ہے، جس پر اہل خانہ نے مریض کو مقامی اسپتال داخل کروایا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں ریمیڈیسیور انجکشن لگانےکا کہا۔

منوج اگروال کے بیٹے نے قریبی میڈیکل اسٹور سے 90 ہزار روپے میں دو ریمیڈیسیور انجکشن خریدے، انجکشن لگنے کے بعد منوج اگروال کی حالت مزید بگڑنے لگی تو اہلخانہ مریض کو دہلی لے گئے جہاں وہ 12 مئی کو وہ انتقال کرگئے۔

منوج کی آخری رسومات کے بعد ان کے بیٹے سنسکار اگروال نے انجکشن کے ڈبے کو دیکھا تو شبہ ہوا کیونکہ انجکشن کے ڈبے پر برانڈ کا نام ’کووی پری‘ اور قیمت 5400 روپے درج ہے، اس کے علاوہ ’میک اِن انڈیا‘ کا لوگو بھی چھپا ہے۔

شک یقین میں بدلنے پر منوج کے بیٹے نے بریلی کے ایس ایس پی منوج سجوان سے ملکر ساری صورتحال بتائی، جس پر ڈرگ انسپکٹر سے اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔

اسکے بعد پولس نے مذکورہ میڈیکل اسٹور کےمالکان کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دونوں ملزمان میڈیکل اسٹور بند کر کے فرار ہو چکے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر ڈرگ سنجے کمار کا کہنا ہے کہ انجکشن کی شیشی خالی ہے اور بغیر سیمپل کے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ انجکشن اصلی تھے یا نقلی۔ جس کمپنی کی پیکنگ ہے وہ تین سال پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔ بریلی میں اس کمپنی کا کوئی مال نہیں آیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں