The news is by your side.

Advertisement

پہلوانی اور فنِ کشتی: اکھاڑے میں اترنے والے چند مشہور پہلوانوں کا تذکرہ

پہلوانوں کا اکھاڑے میں اترنا اور کشتی لڑنا وہ یاد بن چکا ہے جسے بس لفظوں اور تصویروں کا قیدی ہی سمجھیے۔

آج نوجوان اپنے ہاتھوں میں اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ اٹھائے ہوئے ہیں اور یہی گویا ان کی کسرت ہے۔ ان کا اکھاڑا سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہیں۔ یقیناً وقت بدل چکا ہے۔

کشتی کبھی ایک مقبول اور باوقار کھیل سمجھا جاتا تھا۔ یہ صرف ایک کھیل نہیں تھا بلکہ اس کی جڑیں ہماری ثقافت میں گہری ہیں۔ کسرت اور کشتی جسمانی صحت ہی نہیں ذہنی اور روحانی تربیت کا ذریعہ بھی تھا۔ ایک مفید اور خوب صورت مشغلہ جس نے پاکستان کو کئی نام ور کھلاڑی دیے جنھوں نے دنیا بھر میں اس کھیل کے حوالے سے پاکستان کا نام بلند کیا۔

اکھاڑے اور دنگل میں جب حریف آمنے سامنے ہوتے اور فتح کا اعلان ہوتا تو ان کے مابین مثالی نظم و ضبط، اصولوں اور سماجی قدروں کی پاس داری کے ساتھ روایتی گرم جوشی کا شان دار مظاہرہ دیکھنے کو ملتا۔ آج ہمارے ملک میں پہلوانی کا فن اور کشتی کا کھیل زوال پذیر ہے۔ نوجوان کسرت و کشتی کا شوق نہیں رکھتے، مگر جسمانی فٹنس کی غرض سے باڈی بلڈنگ کلب ضرور جاتے ہیں۔

پہلوانی کا شوق، اکھاڑے کی کشش کے ساتھ کشتی کا جنون ہمارے یہاں کبھی اعزازات سمیٹنے کا سبب بنا تھا۔ یہ ایک قدیم فن ہے جو مختلف شکلوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں رائج رہا ہے۔ برصغیر میں اس کھیل کے حوالے سے کئی نام آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں۔ پاکستان کی بات کی جائے تو پہلوانی اور کشتی کے کھیل میں کئی اعزازات ہمارے حصّے میں آئے۔ آج ہم ماضی کے چند مشہور پہلوانوں کے نام آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

شاید آپ نے کبھی بھولو پہلوان کا نام سنا ہو یا گاما پہلوان کا تذکرہ پڑھا ہو۔ اسی طرح ناصر عرف بھولو، زبیر جھارا، گوگا پہلوان، امام بخش پہلوان اور غلام محمد عرف گاما پہلوان وہ نام ہیں جنھوں نے تن سازی کے حوالے خوب محنت کی، خوراک اور کسرت پر توجہ دی اور جب اکھاڑے میں اترے اور دنگل کیا تو اس کھیل کے فاتح ٹھیرے۔ یہ قدیم، علاقائی اور روایتی کھیل اب پاکستان کی پہچان نہیں رہا۔ تاہم چند شہروں میں انفرادی حیثیت میں اب بھی کشتی لڑنے اور پہلوانی کرنے کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں