The news is by your side.

Advertisement

بچپن ہی سے گنگنانے کا شوق تھا، موسیقی تو روح کی غذا ہے، گلوکار عالمگیر

کراچی: پاکستان کے ممتاز پاپ گلوکار عالمگیر نے کہا ہے کہ بچپن سے ہی گٹار بجانے اور گنگنانے کا شوق تھا اور یہ بات حقیقت ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، عالمگیر نے کہا کہ طبیعت کی ناسازی کے باعث ماضی میں تسلسل کے ساتھ پرفارمنس نہیں دے سکا، لیکن اب بہتر ہوں اور تین چار گھنٹے مسلسل کھڑے ہوکر پرفارم کرسکتا ہوں۔

انہوں نے اپنا ماضی یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا جانا چاہتا تھا لیکن بنیادی تعلیم مجھے کراچی میں حاصل کرنی تھی، اسی دوران شہر ہی میں میں نے بچوں کے شو میں پرفارم کرنا شروع کیا لیکن میری یہ قطعی سوچ نہیں تھی کہ میں آگے جاکر معروف گلوکار بن جاؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن سے ہی گٹار بجانے اور گنگنانے کا شوق تھا لیکن میں کبھی گائیکی کو اپنا پیشہ نہیں بنانا چاہتا تھا لیکن پھر زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ اسے اپنا پیشہ بنانا پڑا، اب تو مجھ پر فلم بھی تیار کی جارہی ہے جو جلد منظر عام پر آئے گی۔

فوگ کلچر فلمز نے فلم البیلا راہی بنانے کا اعلان کردیا

عالمگیر نے کہا کہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میرے پرستاروں اور مداحوں کا بڑا عمل دخل ہے، گانے کا جب باقائدہ آغاز کیا تو انہوں نے میری آواز کو بے حد پسند کیا، ان کی سپورٹ نے مجھ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا اور آج میرے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں۔

معروف گلوکار کا کہنا تھا کہ ماضے کے لیجنڈ گلوگاروں کی آواز کو پسند کرتا ہوں، نوجوان سنگرز جو آج کل اپنی آواز کا جادو دکھارہے ہیں ان میں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان ہیں، پاکستان میں باصلاحیت فنکاروں کی کمی نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشہ برسوں میں اپنے پیشے کو خیر باد کہہ کر امریکا میں گوشہ نشین ہوگیا، فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں منظر عام پر نہیں آؤں گا، لیکن اے آر وائی کی بدولت میں نے اپنے پرانے سفر کا آغاز کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں