The news is by your side.

Advertisement

بہادر فاطمہ کی موت نے والد کو غریبوں کے لیے امید کی کرن بنا دیا

کمسن اولاد کی موت ماں باپ کو توڑ کر رکھ دیتی ہے لیکن ایک بہادر بیٹی اپنی موت کے بعد باپ کی ہمت بن گئی اور اس کے طفیل اس کے والد نادار افراد کے لیے امید کی کرن بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر گجرانوالہ کے ڈاکٹر اسد امتیاز نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں شرکت کی اور بتایا کہ کس طرح ان کی مرحومہ بیٹی ہزاروں افراد کے پیٹ بھرنے کا سبب بنی۔

ڈاکٹر اسد کی 14 سالہ بیٹی فاطمہ کینسر کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئی تھی، لیکن اس کا خواب تھا کہ وہ غریبوں کی مدد کرے اور کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔

اس کی موت کے بعد اس کے والد نے اس کا یہ خواب پورا کرنے کا بیڑا اٹھا لیا، انہوں نے سب سے پہلے فاطمہ اسد دستر خوان شروع کیا جس سے مستحق افراد دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر کھا سکتے تھے۔

اس کے بعد اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، فاطمہ کے نام سے قائم ویلفیئر ادارہ سرکاری اسپتال میں داخل مریضوں کے تیمارداروں کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہے، کسی نادار کی فیس بھرنی ہو، کسی کے گھر کا کرایہ ادا کرنا ہو، کسی کو ماہانہ وظیفہ دینا ہو، اس ادارے سے کسی شخص کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا گیا۔

ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ فاطمہ کے نام سے قائم ادارے کے تحت شہر میں الیکٹرک کولر لگائے گئے ہیں، جبکہ پرندوں کے لیے بھی دانہ پانی رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ان کی پہچان اپنے نام سے کم اور ان کی بیٹی کے نام سے زیادہ ہوتی ہے۔

فاطمہ کی یادیں شیئر کرتے ہوئے ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ ایک بار وہ اس کے لیے آئی فون لینے گئے تو اس نے میسج کر کے کہا آپ پیسے مت ضائع کریں، یہ رقم کسی غریب کو دے دیں۔

اسی طرح ایک بار فاطمہ نے اپنی والدہ سے کہا کہ اس کی خواہش ہے کہ اس کے نام کی چیریٹی کے بل بورڈز جگہ جگہ لگے ہوں، والد نے اس کی یہ خواہش پوری کردی۔

ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی وجہ سے لوگوں کے دکھ درد دور کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا اس کے بعد اللہ نے بہت سے لوگوں کو وسیلہ بنا دیا، ان کے دوست، احباب، رشتے دار، دل کھول کر اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں