معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سینیٹ میں فواد چوہدری اور مشاہداللہ خان میں تلخ کلامی -
The news is by your side.

Advertisement

معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سینیٹ میں فواد چوہدری اور مشاہداللہ خان میں تلخ کلامی

اسلام آباد : سینیٹ کا اجلاس پھر ہنگامہ آرئی کی نظر ہوگیا، فواد چوہدری اور مشاہداللہ خان میں تلخ کلامی ہوگئی، چیئرمین سینیٹ نے مشاہد اللہ خان کے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرادیئے، دونوں نے معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس صادق سنجرانی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک بار پھر ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس پر مشاہد اللہ خان نے بھی ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیئے۔

اس موقع پر ایوان میں شور شرابے کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، صادق سنجرانی نے فواد چوہدری اور مشاہد اللہ کو فوری طور پر معافی مانگنے کی ہدایت کی، انہوں نے فواد چوہدری کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آپ معافی نہیں مانگیں گے تو ایوان سے باہر کردوں گا۔ جس پر وزیراطلاعات نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشاہداللہ کےخاندان نے قومی ادارے پی آئی اے کو تباہ کردیا، معافی انہیں مانگنی چاہیے، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک پر ڈاکہ پڑ گیا تمام سامان یہ ڈاکو لے گئے، ڈاکو پکڑیں گے اور قرض لے کر گھر چلائیں گے۔

معافی مانگنے کے معاملے پر دونوں نہ مانے جس پر رضا ربانی اور شبلی فراز نے فواد چوہدری اور مشاہداللہ خان کو لابی میں لے جاکر سمجھانا پڑا۔

جوبیورو کریٹ حکومت کی پالیسی پر عمل نہیں کرےگا اس کو گھر جانا ہوگا

بعد ازاں ایوان سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی طور پر آئی جی پنجاب کی تعیناتی کو روکا، الیکشن کمیشن آئی جی پنجاب کی تعیناتی پر پابندی نہیں لگاسکتا ۔

مزید پڑھیں: مخالفین چاہے جتنا روئیں یا پیٹیں احتساب کا عمل اب نہیں رکے گا، فواد چوہدری

الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ وہ آئی جی پنجاب کی تبادلے سے متعلق نوٹی فکیشن واپس لے، جوبیورو کریٹ حکومت کی پالیسی پر عمل نہیں کرےگا اس کو گھر جانا ہوگا، ناصردرانی نے خرابی صحت کے سبب استعفیٰ دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں