The news is by your side.

Advertisement

فیس بک کی وائرل ویڈیو نے 40 سال پہلے جدا ہونے والے خاندان کو ملا دیا

ڈھاکا: بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ شہری فیس بک کی وجہ سے چالیس سال بعد اپنے خاندان تک پہنچ گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فیس بک پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بنگلا دیش کے 78 سالہ حبیب الرحمان چار دہائیوں کے بعد اپنے گھر والوں‌ تک پہنچ گئے، وہ کاروباری دورے کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑ گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق حبیب الرحمان جس وقت اپنے اہل خانہ سے بچھڑے اُس وقت اُن کی عمر 30 برس تھی، وہ ڈھاکا کے عثمانی میڈیکل کالج میں زیر علاج ہیں‌ اور اسی دوران اُن کی اپنے صاحبزادوں سے ملاقات ہوگئی۔

حبیب الرحمان کی امداد کے لیے 17 جنوری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ ہوئی جس میں مریض کے لیے عطیات دینے کی اپیل کی گئی تھی، امریکا میں مقیم اُن کی چھوٹی سالی نے ویڈیو دیکھی اور اہل خانہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

خاتون نے سب سے پہلے اپنے خاوند کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر بنگلادیش میں مقیم اپنے بھائی سے رابطہ کر کے مریض کے بارے میں بتایا اور ملنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں نوجوان نے حبیب الرحمان نے دونوں بیٹوں (شہاب الدین اور جلال الدین) کو صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر تینوں مل کر اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ مذکورہ مریض اُن کے والد ہیں جو چار دہائیوں قبل بچھڑ گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق حبیب الرحمان سمینٹ کا کاروبار کرتے تھے اور اُن کے چار لڑکے تھے، اُن کی اہلیہ کا انتقال سنہ 2000 میں ہوا۔

بیٹے کے مطابق ’والدہ اور رشتے داروں نے والد کو تلاش کرنے کے لیے حتی الامکان کوشش کی مگر انہیں ناکامی کا سامنا رہا، کئی سالوں انتظار کرتے کرتے والدہ انتقال کرگئیں‘۔

حبیب الرحمان نے بتایا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے ضلع مولوی بازار میں رہائش پذیر ہیں اور اُن کی دیکھ بھال رضیہ بیگم نامی خاتون کررہی ہیں۔

خاتون کے مطابق انہیں حبیب الرحمان 1995 میں حضرت شہاب الدین کے مزار سے ملے، انہوں نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور مدد کی اپیل کی تھی۔

ڈاکٹرز کے مطابق حبیب الرحمان کے ہاتھ میں فریکچر ہے اور اُن کو فوری آپریشن کی ضرورت ہے مگر خاتون کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ علاج کے اخراجات برداشت کرتیں جس کے بعد ایک شخص نے مریض سے اجازت لے کر اُن کی ویڈیو بنا کر فیس بک پر شیئر کی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں