site
stats
عالمی خبریں

دورانِ حراست حسن سلوک سے متاثر فلپائنی قیدی نے اسلام قبول کرلیا

ابوظہبی : جیل میں موجود مسلمان اہلکار اور قیدیوں کے حسنِ سلوک اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر غیر مسلم فلپائنی اسیر نے اسلام قبول کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق 30 سالہ فلپائنی قیدی اس وقت جیل میں ایک فلپائنی خاتون سے ناجائز تعلقات رکھنے کے جرم میں سزا کاٹ رہا ہے اور جس نے جیل میں موجود مسلمان جیلر و اہلکار اور جیل کے مسلمان ساتھیوں کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے اپنے آبائی مذہب عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اسلام قبول کرنے سے متعلق اپنے فیصلے سے فلپائنی قیدی نے انسداد جرائم کی عدالت ابو ظہبی میں اپنی پیشی کے موقع پر جج سے گفتگو میں آگاہ کیا اور باقاعدہ اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بعیت کے انتظامات کرنے کی درخواست کی اور بعد ازاں کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔

فلپائنی قیدی  کا کہنا تھا کہ میں نے دورانِ اسیری مسلمان قیدیوں کے حسن سلوک کے علاوہ اسلام کی تعلیمات سے متعلق چند کتابیں بھی میرے زیر مطالعہ تھیں جن سے مجھے اسلام کے زریں اصولوں کو جاننے کا موقع ملا اور احکامات الہی کو سمجھنے میں مدد ملی۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے جیل میں چند ہی ہفتے ہوئے ہیں لیکن جیل اہلکاروں کی نرم دلی، کشادہ خیالی اور شائستہ گفتگو جب کہ ساتھی مسلمان قیدیوں کے تعاون اور اچھے کردار نے مجھے اسلام کے بارے میں جاننے پر مجبور کیا جس کے بعد چند کتابیں پڑھیں تو اس آفاقی پیغام کا پرستار بن گیا۔

فلپائنی قیدی کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ میں گرفتاری کے وقت اپنی خاتون دوست کے موجود تنہائی میں موجود تھا لیکن ایسا نہیں ہے کہ میں نے کوئی انتہائی غلط قدم اُٹھایا ہو البتہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس ملک میں بغیر نکاح کے اپنی خاتون دوست کے ساتھ رہنا قابل گرفت جرم ہے۔

فلپائنی قیدی نے عدالت سے درخواست کی کہ مجھے قانون سے لاعلمی کا فائدہ دیتے ہوئے معاف کیا جائے اور میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام ضروری قوانین سے آگاہی حاصل کر کے آئندہ ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گا اور معاشرے کا صحت مند اور مفید شہری بن کر معمولات زندگی نبھاؤں گا.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top