The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی فوجی آپریشنز کے دوران ویڈیوز اور تصاویر بنانے والے کو سزا دینے کا بل منظور

تل ابیب : اسرائیلی پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فلم یا تصویر بنانے والوں کو سزا دینے کا بل منظور کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینیوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ویڈیو، یا تصاویر بنانا جرم شمار کیا جائے گا۔

اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجویز کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے منظور کرلیا ہے, جس کے بعد صیہونی فوجیوں کی دوران آپریشن ویڈیو یا تصاویر بنانے والوں کو سزا دی جائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف آپریشنز کے دوران بنائی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر صیہونی فوجیوں کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ملکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اسرائیلی فوجیوں کی ویڈیو بناتا ہوا پکڑا گیا تو اسے 5 سے 10 برس قید کی سزا سامنا کرنا ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مذکورہ بل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اسرائیلی فوجیوں کی ویڈیوز اور تصاویر کے بعد منظور کیا گیا ہے، جس میں اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینیوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہوئے اور انہیں قتل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں صیہونی فوجی نے ایک نہتے فلسطینی شہری کو گولی مار قتل کیا تھا، اسرائیلی ملٹری کورٹ نے ویڈیو میں صیہونی فوجی کے واضح طور پر نظر آنے پر 9 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے جیل منتقل کردیا تھا۔ جو گذشتہ ماہ جیل سے رہا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی سپاہی ایلور آزاریا کی ویڈیو انسانی حقوق کی ’بی تسلیم‘ نامی تنظیم کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہگائی ایل ایڈ نے مذکورہ فجوی کے خلاف ثبوت کے طور پر بنائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں