site
stats
خواتین

امریکی بحریہ میں دشوار ترین مشن کے لیے پہلی بار خاتون اہلکار نامزد

واشنگٹن: امریکی بحریہ میں پہلی بار ایک نہایت دشوار ترین جنگی مشن کی خصوصی فورس میں شمولیت کے لیے ایک خاتون اہلکار کو تربیت دی جا رہی ہے جو اس مشن کی تربیت حاصل کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔

امریکی بحریہ کی یہ فورس ’سیل ۔ ایس ای اے ایل‘ کی اصطلاح سے جانی جاتی ہے۔ یہ بحریہ کی خصوصی آپریشنل فورس ہے جو بوقت ضرورت بری، بحری اور فضائی (سی، ایئر، لینڈ – ایس ای اے ایل) خدمات سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس بار اس مشن کی تربیت کے لیے 2 خواتین اور ایک مرد نیوی اہلکار کا انتخاب کیا گیا ہے۔

سیل کی تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں ایک اور خصوصی جنگی تربیت دی جائے گی جسے اسپیشل وار فیئر کمبیٹنٹ ۔ کرافٹ کریو مین پروگرام یا ایس ڈبلیو سی سی کہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ان دونوں خصوصی پروگرامز میں خواتین کو شامل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ سنہ 2016 میں ان دونوں پروگرامز میں خواتین کو شامل کرنے کی اجازت دے دی گئی تاہم گزشتہ 18 ماہ کے دوران کوئی خاتون مذکورہ پروگرامز کے لیے منتخب نہ ہوسکی۔

اب پہلی بار ان پروگرامز کی تربیت کے لیے 2 خواتین کا انتخاب کرلیا گیا ہے جو امریکی بحریہ میں تاریخ رقم کر چکی ہیں تاہم ابھی تربیت مکمل ہونے اور خدمات کا باقاعدہ آغاز کرنے تک ایک لمبا سفر باقی ہے۔

دونوں خواتین کا نام سیکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ رکھا گیا ہے۔

دشوار ترین تربیت

امریکی بحریہ کے ان 2 خصوصی جنگی پروگرامز کے لیے دی جانے والی تربیت نہایت سخت اور دشوار ہے۔

تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی مہینوں تک سخت تربیت اور اسکریننگ کی جاتی ہے جس کے بعد انہیں آپریشن میں حتمی شمولیت کے لیے انتخابی پینل کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

گاہے بگاہے ہونے والی اسکریننگ کے دوران امیدواروں کی سخت ذہنی وجسمانی پڑتال کی جاتی ہے اور ایک فیصد بھی ناکامی کی صورت میں مذکورہ امیدوار کو تربیتی پروگرام سے خارج کردیا جاتا ہے۔

ہر سال تربیتی پروگرام کے لیے منتخب ہونے والے 63 فیصد مرد اہلکار حتمی مرحلے میں پہنچنے سے قبل ہی ناکام ہوجاتے ہیں۔

امریکی بحریہ کی ویب سائٹ کے مطابق ہر سال 1 ہزار امیدواروں کو تربیت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تاہم ان میں سے صرف 2 یا ڈھائی سو اہلکار ہی تربیت مکمل کر پاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top