The news is by your side.

سیلاب زدہ علاقوں میں ڈینگی، ملیریا اور گیسٹرو پھیلنے لگا

صوبہ سندھ میں سیلابی بارشوں کے بعد صورتحال انتہائی خراب اور نظام زندگی مکمل طور پر تباہ ہوگیا، بھوک اور افلاس کے ساتھ مختلف بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔

کئی کئی کلومیٹر تک کھڑے ہوئے گندے پانی میں خوفناک قسم کے مچھروں کی افزائش بہت تیزی سے ہورہی ہے، جس کے سبب تعفن کے ساتھ علاقوں میں ڈینگی، ملیریا اور گیسٹرو کی وبا نے بھی پنجے گاڑ لیے۔

سیلابی ریلوں سے متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم بچ تو گئے ہیں بچوں کو بیماریوں کیسے بچائیں، ہمیں نہ کھانا میسر نہ پینے کا صاف پانی ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈاکٹر ابراہیم یوسف نے بتایا کہ متاثرین کو غذا کے ساتھ ساتھ ادویات بھی مہیا کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھوٹ رہے ہیں، بیماریوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تین لاکھ سے زائد افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، متاثرین کو کھانے کے ساتھ دواوں کی بھی شدید ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ ہیضہ، پیٹ کی دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، سانپ اور بچھو کے کاٹنے کے کیسز میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس کا بروقت علاج نہ ہونے سے اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ کے عمرکوٹ ضلع میں صرف دو ہفتوں میں 300 سے زائد ملیریا اور دس کے قریب ڈینگی کےکیس مثبت آگئے، سیلابی بارشوں کےبعدصورتحال انتہائی سنگین ہوگئی، خیموں میں مقیم سیلاب متاثرین شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں جبکہ متاثرین میں مچھر دانیاں بھی تقسیم نہ ہوسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں