The news is by your side.

Advertisement

غزہ سے زخمیوں کو لے کرفلسطینی جہازاسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ

غزہ، فلسطین: فلسطین کا چھوٹا بحری جہاز(فلوٹیلا) اسرائیل کی جانب سےکئی سالوں سے عائد پابندیوں کو توڑ کر غزہ کی ساحلی پٹی سے باہر کھلے سمندر میں نکل گیا ہے، جہاز میں 25 مریض۔ طالب علم اور کچھ سماجی رہنما سوار ہیں۔

تفصیلا ت کے مطابق فلسطین کے اس جہاز کی منزل سائپرس کی بندرگاہ لیماسول ہے جو کہ غزہ کے شمال میں واقع ہے، یہ جہاز آج صبح اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا ہے اور اس کی حمایت میں متعدد کشتیاں ساتھ چلی ہیں۔

اسرائیل نے سنہ 2006 سےب20 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں محصور کیا ہوا ہے اور ان کے باہری دنیا سے رابطے پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ فلوٹیلا نے جب 16 ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کیا تو اسے اسرائیل کے چار بحری جنگی جہازوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ جہاز سے ایک ایکٹوسٹ نے الجزیرہ نامی عرب خبررساں ادارے کو بتایا کہ’’ ہمارے چاروں طرف اسرائیلی جہاز ہیں اور ہم بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ فی الحال ہم سب ، صحیح سلامت ہیں اور آپ سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں‘‘۔

یاد رہے کہ سنہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینیوں کو 20 ناٹیکل میل کے اندر فشنگ کرنے کی اجازت دینے کا پابند ہے تاہم اس پر کبھی بھی عمل درآمد ممکن نہیں ہوسکا۔

منگل کے روز روانہ ہونے والے اس جہاز پر مریض ، طلبہ اور گزشتہ دنوں ہونے والے مظاہروں میں زخمی ہونے والے افراد شامل ہیں۔ جہاز کے منتظمین کے مطابق اس پر موجود تمام افراد کے پاس پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویز موجود ہیں اور زخمیوں کو علاج کی غرض سے ترکی منتقل کیا جارہا ہے جہاں ان کے علاج کے انتظامات مکمل ہیں۔

اس فلوٹیلا کی حمایت میں سینکڑوں فلسطینی 30 سے زائد کشتیوں میں سوار ہوکر ساتھ چلیں ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہم اجازت یافتہ حدود سے باہر نہیں جائیں گے، کھلے سمندر میں بس یہی ایک جہاز جائے گا۔ یاد رہے کہ ماضی میں اسرائیل فلسطینی کشتیوں کو محض دس سے 12 ناٹیکل میل تک کشتی رانی کی اجازت دیتا رہا ہے اور گزشتہ دنوں یہ حد گھٹا کر محض ایک کلومیٹر تک کردی گئی تھی۔ فلسطین کی کشتیاں ویسے بھی چھ ناٹیکل میل کی حد میں رہتی ہیں اور اسرائیل کی جانب سے ان پر مسلسل فائرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ سفر واپسی مارچ کا حصہ ہے جس میں وہ اسرائیل کی طرف سے عائد جبری پابندی کو توڑ کر خود اسرائیل اور دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ وہ آزادی چاہتے ہیں۔ انہیں یہ بھی اندیشہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ان کی کشتیوں کو لازمی نشانہ بنایا جائے گا لیکن وہ اس خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں