The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ صورت حال کے پیش نظر کیا گیا: وزیر خارجہ

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع پرحکومت نےجوکیاقانون کے دائرے میں کیا ، عدالت نے نشاندہی کی کہ کچھ ابہام ہے، جس کو دور کرنا ضروری ہے، امید ہےاپوزیشن ارکان معاملےپرہماراساتھ دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جوخدشات پاکستان ظاہرکرتا رہام او آئی سی نےمن وعن قبول کیا ، بابری مسجدپربھی اوآئی سی نےہمارےمؤقف کی تائیدکی ، مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکو117دن ہوگئے، جامع مسجد پر تالے ہیں،نمازوں پر پابندی ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک ٹریلین ڈالرزکامشترکہ جی ڈی پی ہے،اربوں کی برآمدکرتےہیں، ہم نےایک اجلاس منعقدکیا،اس میں صدرپاکستان تشریف لائے، سفارشات کو سامنے رکھ کرافریقہ سے متعلق پالیسی بنا رہے ہیں، طےکیاہےکہ ہمارا آئندہ اجلاس کینیا نیروبی میں ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کوشش کریں گےکہ افریقہ سےہمارےسیاسی تعلق میں اضافہ ہو، کوشش ہےجن چیزوں کی افریقہ میں مانگ ہے، وہ برآمد کریں، افریقہ میں ٹریڈافسران کے لیے 45افراد کو منتخب کیا گیا ہے، افریقہ سےمتعلق 6نئی اسامیاں پیداکی گئی ہیں تاکہ برآمد بڑھ سکیں، چین اور ترکی  کی طرح افریقہ میں اپنی حیثیت میں اضافہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی توسیع پر حکومت نے جو کیا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا،وزیراعظم نے کابینہ سے مشورےاور صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا، فیصلہ کیا گیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ملک کے مفاد میں ہے،کسی ادارے سے تصادم کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت سے مسائل اور خطے کی صورتحال سب کے سامنے ہے، افغانستان اور بھارت سے معاملات کے حوالے سے توسیع ہوئی ، کابینہ سے مشاورت کے بعد وزیراعظم نے فیصلہ کیا، عدالت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا گیا، عدالت نے نشاندہی کی کہ کچھ ابہام ہے، جس کو دور کرنا ضروری ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم آپس میں مشورہ اور تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں، تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد مشاورت سے آگے بڑھیں گے، آرمی چیف کی آئندہ توسیع سے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا، امید ہے اپوزیشن ارکان معاملے پر ہمارا ساتھ دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کچھ بھی کرسکتاہے ، بھارت پاکستان پرچڑھائی بھی کرسکتا ہے، ہمیں ہروقت تیار رہنا ہوگا، بھارت کسی فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے، پاک افواج بھارت کے مذموم عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق2سماعتیں ہونا ہماری کامیابی ہے، 1965 کے بعد مسئلہ کشمیر دنیا میں بھرپور طریقے سے اجاگر ہوا ہے، دھرنے کی وجہ سے ہماری اور میڈیا کی توجہ مسئلہ کشمیرسے ہٹی، توجہ ملک کی سیاسی صورتحال کی طرف زیادہ ہوگئی۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو سامنے رکھ اس سےتوجہ نہیں ہٹنی چاہیے، بلیٹن میں 5سے 6منٹ مسئلہ کشمیر کی صورتحال پرہونی چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں بلیک آؤٹ ہے،پاکستانی میڈیا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے، کل ملائیشیا کے ڈپٹی فارن کمشنر سے مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سےسری لنکامیں نئی قیادت کومبارکباددوں گا، سری لنکامیں نئی قیادت کو مسئلہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کروں گا۔

سی پیک کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا سب جانتے ہیں کہ سی پیک سے کون خائف ہے ، حکومت پاکستان سی پیک کوایک اہم منصوبہ سمجھتی ہے ، کسی پراپیگنڈےکااثرنہیں ہوگا یقین دلاتاہوں کہ ہماری توجہ قائم ہے، سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ، سی پیک پاکستان کیلئے مستقبل میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایف اےٹی ایف میں پاکستان کا بھرپورمؤقف پیش کیا ہے ، 10سال میں وہ کام نہیں ہوا جو 10ماہ میں ہوا ہے ، آئندہ اجلاس میں مؤقف ایسےپیش کریں گےکہ بھارتی عزائم ناکام ہوجائیں، ہم آئندہ مرحلے میں پاکستان کو گرے لسٹ نکلوائیں گے، ترکی، انڈونیشا، ملائیشیااور قطری وزیر خارجہ سےملاقات کروں گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں