The news is by your side.

Advertisement

جی 20کا ترقی پذیر ممالک کو ریلیف، پاکستان کے قرضوں پر رعایت کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جی 20 کاترقی پذیر 67 ملکوں کو قرض ریلیف دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے، جی ٹوئنٹی نے وزیراعظم  کی تجویز کی توثیق کی،یہ چوتھاگلوبل انیشیٹوہے جو عمران خان نےلیا، پاکستان کے قرضوں پررعایت کااطلاق یکم مئی سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 12اپریل کو عالمی لیڈرز سے اپیل کی ، انھوں نے استدعاکی کورونا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لےرکھاہے، 20 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں، پوری دنیا متاثر ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان نہیں امریکایورپ میں کاروبار بند ، بےروزگاری بڑھ رہی ہے،دنیا بھر میں معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں، وزیراعظم کا مؤقف تھا اس وائرس کا ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثرہوں گے ، انھوں نے بتایا مجھے اندازا ہے اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں ہیلتھ کیئر سسٹم پر دباؤ زیادہ ہے، ترقی پذیرممالک کی آمدن گررہی ہے اور اخراجات بڑھ رہےہیں ، یہ ہونہیں سکتا ہےچین یورپ متاثر ہوں تو پاکستان متاثر نہ ہو، دنیا بھر میں ایکسپورٹ متاثر اور برآمدات بھی کم ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسدعمر،عبدالحفیظ شیخ اور حماد اظہر سے اپنا لائحہ عمل شیئر کیا، ہم نے وزرا کے مشوروں کو شامل کرکے مؤثر حکمت عملی بنائی، وزیراعظم سے اپنی حکمت عملی شیئر کی جس کو انھوں نے سراہا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے رسک بھی اٹھانا پڑسکتاہے، جس پر وزیراعظم نے کہا موجودہ صورت حال میں رسک بھی لیجئے ، بلاآخر وزیراعظم نے مؤثر حکمت عملی کے تحت ایک اپیل 12اپریل کو کی، عالمی لیڈرز سے اپیل کے دن یواین سیکریٹری جنرل کو درخواست دی، عالمی لیڈرز کو بھی وزیراعظم کی اپیل کے بعد خطوط ارسال کئے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ کل شام چینی وزیرخارجہ سے اس موضوع پر تفصیلی تفتگو ہوئی ، چین جی 20کا اہم ملک ہے ، جی 7اجلاس میں بھی ہماری حکمت عملی زیربحث آئی، جی 7سے پہلے یورپی یونین کےاجلاس میں بھی معاملہ زیربحث لایا گیا، موجودہ صورتحال میں جی 7کےایم رکن چین،روس کا اعتماد ضروری تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جی 20کےاجلاس میں وزیراعظم عمران خان کےمؤقف کو سراہا گیا ، یواین سیکریٹری جنرل نے وزیراعظم کے مؤقف کو سراہا اور توثیق کی، ترقی پذیر76ممالک کو ڈیٹ ریلیف دینےکا فیصلہ ہوگیا جو بہت خوش آئند ہے ، ایم ڈی آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک نے بھی اس تجویز کی توثیق کی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ عبدالحفیظ شیخ سے آج اس صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی، یہ چوتھا گلوبل انیشیٹوہے جوعمران خان نے لیا، دفترخارجہ نے معاونت کی ، عبدالحفیظ شیخ کا خیال ہے اس کی مزید تفصیلات آنے کا انتظار کرنا ہوگا، قرضوں میں رعایت کااطلاق پاکستان سمیت 76ممالک پر ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز کا مثبت اثر 76ممالک پرپڑے گا ، پاکستان کو قرضوں پر رعایت کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا، رعایت کامعاملہ دیکھاجائےتو تمام مالیاتی ادارے شامل ہوجاتے ہیں۔

سارک فورم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سارک فورم خراب کرنےکی مکمل کوشش کی ، کورونا کی صورتحال پر ہم سارک فورم کا حصہ بنے۔

اپوزیشن سے متعلق وزیرخارجہ نے کہا اپوزیشن کی شمولیت کیساتھ اسپیکر کی قیادت پارلیمانی کمیٹی بنی ، پارلیمانی کمیٹی میں پی پی، ن لیگ، پی ٹی آئی تینوں کی نمائندگی ہے، پارلیمانی کمیٹی میں وزیراعظم،پی ٹی آئی حکومت کا وژن سامنے رکھاہے، این سی اوسی کی شکل میں ہم نے نیوٹرل باڈی تشکیل دی، جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی میں بھی تمام صوبےشامل ہیں، سندھ کےوزیراعلیٰ قومی رابطہ کمیٹی میں صوبےکی نمائندگی کررہےہیں، وزیر اعظم سب سے پہلے جس کی بات سنتے ہیں وہ مرادعلی شاہ ہیں، ہماری نیت سب کو لیکر چلنے کی ہے۔

کورونا کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کوروناوائرس کب تک رہے گا اس پر مختلف آرا ہیں ،ہرروزصورتحال مختلف ہے،م تو چاہتے ہیں پاکستانی راتوں رات واپس آجائیں ، پاکستانیوں کوواپس لانے کیلئے تمام اقدامات ضروری ہیں اور واپسی سے پہلےٹیسٹنگ اور قرنطینہ سہولتوں کو بھی مدنظررکھنا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ چین آزمائش سے سرخرو ہوا تو سب سے پہلے ہم انھیں مبارکباددینےگئے، حفاظتی سامان کیلئے چین نے پاکستان کو دیگر ممالک پر ترجیح دی ، توقع ہے آئی ایم ایف پاکستان کیلئےآج1.4ارب ڈالرزکی منظوری دے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں