The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں مقیم غیرملکی ورکرز یہ پڑھ لیں

ریاض: سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے غیرملکیوں کیلئے نئے ‘قانون معاہدہ ملازمت’ سے متعلق اہم نکات وضاحت کے طور پر بیان کیے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے نئے معاہدے کا قانون 14 مارچ سے نافذ ہونے جارہا ہے، جو نجی اداروں کے تمام ملازمین پر لاگو ہوگا، یہ آن لائن پلیٹ فارم ابشر اور قوی پر مہیا کیا جائے گا۔

نئے معاہدہ کے تحت سعودی عرب میں آجر اور اجیر کے درمیان تعلقات کو بہترین اصولوں پر استوار کرنا ہے، افرادی قوت کو باختیار اور لیبر مارکیٹ کو پرکشش بنانا بھی مقصود ہے۔

وزارت افرادی قوت کے مطابق نئے معاہدے کے تحت اجیر اپنی مرضی سے ملازمت کا شعبہ تبدیل کرسکے گا، ورکرز کو خروج وعودہ لگانے کا بھی اختیار ہوگا، اگر کام کا معاہدہ مکمل ہوجائے تو آجر کی اجازت کے بغیر ملازمین کو سعودی عرب سے دیگر ممالک سفر کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔

سعودی قانون: کس صورت میں کارکن بغیر نوٹس ملازمت چھوڑ سکتا ہے؟

مصدقہ معاہدے کے ذریعے آجر اور اجیر کے درمیان ملازمت کی مدت 12 ماہ کی ہوگی۔

نئے قوانین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارکنان ایک سال ملازمت کرکے اپنے کام کی جگہ تبدیل کرنے کا مجاذ رکھا ہے، شرط کے مطابق پیشہ وارانہ خدمات کے دوران کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں