The news is by your side.

Advertisement

’’آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کابینہ یا اسمبلی میں نہیں، کہیں اور ہوا تھا‘‘

سابق چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا فیصلہ کابینہ یا اسمبلی میں نہیں کہیں اور ہوا تھا، سب کو پتہ ہے وہ فیصلہ کہاں اور کس میٹنگ میں ہوا تھا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونا اس حکومت کا فیصلہ نہیں ہے، یہ تو اس کو مزید تاخیر کا شکار کرنے جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں شوکت ترین، مفتاح اسماعیل اور حفیظ شیخ بھی موجود تھے جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائیں گے، میٹنگ میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ سنبھال نہیں سکتے تو بتادیں، انہوں نے کہا ہم سنبھال سکتے ہیں اور کمٹمنٹ دی کہ پورا کرینگے۔

شبر زیدی نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ کابینہ یا اسمبلی میں نہیں کہیں اور ہوا تھا، سب کو پتہ ہے وہ فیصلہ کہاں اور کس میٹنگ میں ہوا تھا، انہوں نے کمٹمنٹ دی تھی کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس کو پورا کرینگے لیکن اب مجھے کمٹمنٹ پوری ہوتے نظر نہیں آرہی۔

انہوں نے کہا کہ آگے جو مہنگائی کا طوفان آئے گا اس کو عام آدمی کیسے برداشت کرے گا، اپریل مئی کے بعد تو کچھ بھی حاصل نہیں کیا گیا بلکہ نقصان میں جارہے ہیں، کبھی کبھی خیال آتا ہے جو کچھ بھی ہورہا ہے کسی ڈیزائن سے تو نہیں ہورہا، صورتحال دیکھتا ہوں تو شک ہوتا ہے ہمیں کہیں اور تو نہیں لے جایا جارہا، اگر ہمیں کسی اور طرف لے جایا جارہا ہے تو قوم کو جاگنا ہوگا۔

سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہمیں کسی اور طرف دھکیلنے کے شک کو رد نہیں کرسکتا، مجھے لگ رہا ہے ہمیں کارنر کیا جارہا ہے، ہمیں بحیثیت قوم اس سے نکلنا ہوگا، کوئی کمٹمنٹ نہیں کررہا، کوئی سافٹ کارنر نہیں دے رہا۔

انہوں نے کہا کہ رجیم چینج نے پاکستان کے حالات کو خراب کیا ہے کوئی بہتری نہیں لایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں