The news is by your side.

Advertisement

سابق امریکی صدر کا دوست کی ناک توڑنے کا انکشاف

واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر بارک اوباما نے انکشاف کیا ہے کہ اسکول دور میں انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی نسل پرستانہ لفظ کے استعمال کرنے پر ناک توڑ دی تھی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے 44ویں صدر نے یہ واقعہ سپوٹیفائی کی ایک قسط کے دوران پروس سپرنگسٹین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔

بارک اوباما نے بتایا کہ جب میں اسکول میں تھا تو میرا ایک دوست اور میں باسکٹ بال کھیلتے تھے، ایک بار دونوں کی لڑائی ہوئی تو دوست نے ایک برا لفظ بولا جس کا شاید انہیں اس وقت مطلب بھی معلوم نہ تھا، اسے جو معلوم تھا وہ یہ تھا کہ میں تمہیں یہ کہہ کر تکلیف پہنچا سکتا ہوں۔

سابق امریکی صدر نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس پر انہوں نے اس کی ناک پر مکا مارا، ہم لاکر روم میں تھے میں نے اسے کہا مجھے آئندہ ایسا کچھ نہیں کہنا۔

اوباما نے کہا کہ نسل پرستانہ الفاظ کا استعمال ایک انسان کی دوسرے پر برتری دکھاتا ہے، اس طرح سے پھر نسل پرستی کی بنیاد پر چوری، جنسی زیادتی، دھوکا اور قتل عام ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اوباما نے اپنے دور اقتدار کے دوران اور اس کے بعد بھی اکثر امریکی معاشرے پر نسل پرستی سے متعلق بات کی تھی، 2015 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ امریکا میں اب تک نسل پرستی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں گذشتہ سال جارج فلائیڈ نامی ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں ‘بلیک لائیوز میٹر’ کی مہم کا آغاز ہوا تھا۔ اس مہم کے باوجود امریکا میں دیگر سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے، جس سے ملک میں نسل پرستی ختم نہ ہونے پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں