فارمولا ای کار بمقابلہ چیتا: ایک فریق کی فنا کی طرف دوڑ -
The news is by your side.

Advertisement

فارمولا ای کار بمقابلہ چیتا: ایک فریق کی فنا کی طرف دوڑ

دنیا بھر میں تیز رفتار ترین گاڑیوں کے مقابلے فارمولا ون کار ریسنگ کے بعد فارمولا ای کار ریسنگ بھی متعارف کروائی گئی جو اب تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر فارمولا ای کار اور چیتے کے درمیان مقابلہ کروایا جائے تو کون جیتے گا؟

سنہ 2014 میں متعارف کروائی جانے والی اس ریس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں حصہ لینے والی تمام گاڑیاں بجلی سے چلنے والی یا الیکٹرک گاڑیاں ہوتی ہیں۔

ریس کی انتظامیہ نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں فارمولا ای کار اور چیتے کو مدمقابل دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ چیتا دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار دوڑنے والا جانور ہے۔

فارمولا ای کار ریسنگ کے سربراہ الجنڈرو ایگ کا کہنا تھا کہ ہم اس انوکھی ریس کا نتیجہ جاننے کے لیے بہت بے قرار اور پرجوش تھے۔

تاہم چیتے کے ساتھ اس ریس کی وجہ صرف ایک تجربہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد کچھ اور بھی تھا۔

فارمولا ای کار ریسنگ کے سربراہ نے کہا کہ اس ویڈیو کا اصل مقصد چیتوں کی معدومی کی طرف توجہ دلانا ہے۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے مطابق بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا بھر میں کم از کم 1 لاکھ چیتے موجود تھے لیکن اب ان کی تعداد میں خطرناک کمی واقع ہوچکی ہے، اور اس وقت دنیا بھر میں اس تعداد کا 9 فیصد یعنی صرف 7 ہزار 100 چیتے موجود ہیں۔

لندن کی زولوجیکل سوسائٹی کا کہنا ہے کہ چیتا اپنی جس تیز رفتاری کے باعث مشہور ہے، اسی تیز رفتاری سے یہ معدومی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چیتوں کی معدومی کے خطرے کی وجوہات میں ان کی پناہ گاہوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کے شکار (دیگر جنگلی حیات) میں کمی (یا انسانوں کا انہیں شکار کرلینا)، جسمانی اعضا کے حصول کے لیے غیر قانونی تجارت اور پالتو بنانے کے لیے تجارت شامل ہے۔

یہ وہ تجارت ہے جس میں خطرناک جنگلی جانوروں کو گھروں میں پال کر ان کی جنگلی جبلت کو ختم کردیا جاتا ہے۔


ای کار ۔ دنیا کا مستقبل

دوسری جانب الجنڈرو ایگ کا کہنا ہے کہ ای کار ریسنگ کو شروع کرنے کا مقصد بھی دنیا کو ماحول دوست ذرائع سفر کی طرف راغب کرنا ہے۔ ’جتنا زیادہ ہم الیکٹرانک گاڑیوں کا استعمال کریں گے اتنا ہی زیادہ ہمارے کاربن کے اخراج میں کمی آتی جائے گی اور ہم موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے قابل ہوسکیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بہتری اسی میں ہے کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک ماحول مہیا کریں جو اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنا کاربن اخراج کم کرسکیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں