ایلف شفق، عشق اور چالیس اصول: ناول پر تبصرہ The Forty rules of love
The news is by your side.

Advertisement

ایلف شفق، عشق اور چالیس اصول (تبصرہ)

ایلف شفق کا تعلق ترکی کی زرخیز ادبی زمین سے ہے، جس نے دنیائے ادب کو اورحان پامک جیسا نابغہ روزگار نوبیل انعام یافتہ ادیب دیا، جس کے ناول” مائی نیم از ریڈ “کو ماسٹر پیس تصور کیا جاتا ہے۔

ایلف شفق کے ناول ”دی فورٹی رولز آف لو“ پر تبصرے سے قبل اورحان پاملک، بالخصوص1998 میں شایع ہونے والے ”مائی نیم از ریڈ“ کا تذکرہ بے سبب نہیں کہ اپنی تکنیک کی حد تک ایلف شفق اِس انوکھے ناول سے بے حد متاثر نظر آتی ہیں ۔ اس میں بھی صغیہ واحد متکلم میں کہانی بیان کی گئی ہے۔

دی ”فورٹی رولز آف لو‘‘ جس کامعیاری ترجمہ ہماانور نے ”چالیس چراغ عشق کے“ کے زیر عنوان کیا، ایک ایسا ناول ہے، جس کے پس پردہ مطالعہ بھی ہے، تحقیق بھی، تجربہ بھی اور مشقت بھی۔ ورنہ اس ناول کو اتنی مقبولیت نصیب ہونا ممکن نہ تھا

البتہ 2009 میں شایع ہونے والے اِس ناول کا موازنہ اورحان پامک کے ماسٹر پیس سے یوں نہیں کیا جاسکتا کہ اورحان نے ایک شاہکار لٹریری ناول لکھا ہے اور ایلف شفق کی تخلیق کے لیے پاپولر ناول کی کیٹیگری زیادہ موزوں ہے۔

یہاں ایلف کے ناول کو، جس نے ایک بڑے طبقے کو گرویدہ بنا رکھا ہے، پاپولر ٹھہرا کر اس کی حیثیت کم کرنا مقصود نہیں ۔ عالمی ادب کا پاپولر فکشن ہمارے پاپولر فکشن سے نہ صرف کئی دہائیوں آگے ہے، بلکہ اپنا اعتبار بھی قائم کر چکا ہے۔

دنیا بھر میں پاپولر ادب میں ایسے حیران کن اور دل چسپ تجربات کیے جارہے ہیں کہ پڑھنے والا ششدر رہ جائے۔ چاہے یہ ڈین براﺅن کا ”دی ڈی ونچی کوڈ “ہو، نیوکلس اسپارک کا” نوٹ بک“ یا پاﺅلا ہاوکینز کی” دی گرل آن ٹرین“۔ دی ”فورٹی رولز آف لو‘‘ جس کامعیاری ترجمہ ہماانور نے ”چالیس چراغ عشق کے“ کے زیر عنوان کیا، ایک ایسا ہی ناول ہے، جس کے پس پردہ مطالعہ بھی ہے، تحقیق بھی، تجربہ بھی اور مشقت بھی۔ ورنہ اس ناول کو اتنی مقبولیت نصیب ہونا ممکن نہ تھا۔

ادب عالیہ کے قارئین اکثر اُن پاپولر ناولز سے متعلق متذبذب دکھائی دیتے ہیں، جنھیں دنیا بھر میں دیوانگی کے ساتھ پڑھا جائے کہ آیا وہ انھیں پڑھیں یا نہ پڑھیں، اس کی ایک بڑی مثال پاﺅلو کوئیلو کا ناول الکیمسٹ ہے۔

راقم الحروف کو ایلف شفق کے اس مشہور زمانہ ناول سے متعلق یہی الجھن درپیش تھی۔ البتہ اس کے ابتدائی ابواب کے مطالعے کے بعد اندیشے زائل ہوئے، اور اس کا دل پذیر موضوع اور ایلف کی تکنیک غالب آگئی۔

ناول میں شمس تبریز اورمولانا رومی کے بے بدل تعلق کو عشق کے چالیس اصولوں میں گوندھ کر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں شمس اور مولانا رومی کی کہانی کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کا ایک پلاٹ بھی چل رہا ہے، جس میں مرکزی کردار ایلا ایک غیر معروف ادیب اے زی ظہارا کا رومی اور شمس سے متعلق تحریر کردہ ناول پڑھ رہی ہے۔ ہمارے سامنے مرکزی کردار کے زیر مطالعہ ناول ہی کے ابواب وقفے وقفے سے آتے ہیں۔

اپنی پراثر تکنیک، دل پذیر موضوع اور بے پناہ مقبولیت کے باعث اگر قاری کو اِسے پڑھنے یا چھوڑ دینے کے مابین فیصلہ کرنا ہو، تو موزوں یہی ہے کہ اسے پڑھ لیا جائے۔ قاری کو، بالخصوص مشرقی اور اسلامی پس منظر رکھنے والے قاری کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی۔

اگر ادب عالیہ پڑھنے والے کئی سنجیدہ قلم کارخود کو اس کا گرویدہ پاتے ہیں، تو یہ بے سبب نہیں۔ ایک جانب جہاں یہ اردو پاپولر ناولز میں مذہبی، اساطیری اور جذباتی علامتوں کے بے دریغ استعمال سے پاک ہے، وہی یہ تصوف کے چند لطیف احساسات کو کامیابی سے بیان کرنے کا مرحلہ بھی طے کر گیا ہے۔


دنیا میں‌ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی دس کتب


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں