The news is by your side.

Advertisement

’تاریخ میں اتنے بڑے معاشی خسارے کی مثال نہیں ملتی‘

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عرفان اقبال کا کہنا ہے کہ سال کے اختتام تک خسارہ 50 بلین ڈالر تک جا سکتا ہے، تاریخ میں اس سے قبل اتنے بڑے خسارے کی مثال نہیں ملتی۔

تفصیلات کے مطابق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا کہنا ہے کہ 10 ماہ میں 39.3 بلین ڈالر خسارہ معاشی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے، معیشت خسارے کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال کا کہنا ہے کہ خسارہ 4 بلین ڈالر فی ماہ ہے، سال کے اختتام تک 50 بلین ڈالر تک جا سکتا ہے، تاریخ میں اس سے قبل اتنے بڑے خسارے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کم لاگت درآمدات کے لیے نئی درآمدی منڈیوں کی تلاش کرنی ہے، آئی ٹی برآمدات، اسمال انٹر پرائزز میں ایکسپورٹ سبسڈی دینا چاہیئے۔ امپورٹ میں اضافے کی شرح برآمدات کی شرح سے دگنی رہی۔

عرفان اقبال کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے ایکسپورٹرز کی سپورٹ کے لیے بڑے فیصلے کیے جائیں، اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر 10.5 بلین ڈالر ہیں۔ یہ ذخائر 2 ماہ کی بھی امپورٹ کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو مناسب قیمتوں پر بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنائے، ایکسپورٹ میں اضافہ اور تجارتی خسارہ کم کر کے معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کا مزید کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی اور لاکھوں ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں، سینکڑوں ارب روپے کے مزید ٹیکس اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں