The news is by your side.

Advertisement

منہ کا سوکھنا معمولی بات نہیں بلکہ یہ کس بیماری کی علامت ہے؟ جانیے

اکثر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ضعیف العمرافراد بھی بار بار منہ سوکھنے کی شکایت کرتے ہیں، جسے ہم پانی کی کمی سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں، مگر اب ماہرین نے اس کی ممکنہ وجہ بیان کردی ہے۔

امریکی یونیورسٹی ’امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن‘ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق بار بار منہ سوکھنے کی ایک بڑی وجہ شوگر بھی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں شو گر کی سطح غیر متوازن اور اکثر اوقات زیادہ رہنا منہ کے ہر وقت خشک رہنے کا سبب بنتا ہے، بغیر کچھ کیے تھکاوٹ کا محسوس ہونا اور جسمانی وزن کا متوازن ہونے کے باوجود بھی اگر منہ خشک رہتا ہے تو یقیناً یہ ذیابطیس کی علامت ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ ہوجائے تو گردوں کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے، ایسے میں گردے مائع کو جذب کرنے کے بجائے پیشاب کی زیادتی کی مدد سے جسم میں سے پانی کو خارج کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جا تا ہے اور منہ بار بار خشک ہو نے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرسکون اور مناسب نیند حاصل کرنے کا طریقہ

امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن‘ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق منہ کے خشک ہونے کے سبب غذا کو ہضم کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ منہ میں تھوک کم مقدار میں پیدا ہونے لگتی ہے، اور اس کے نتیجے میں غذا کو ہضم ہونے میں درکار وقت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایسی علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوراً اپنا تفصیلی طبی معائنہ کروانا چاہیے، بڑھی ہوئی شوگر کی تشخیص ہونے کے نتیجے میں اسے کنٹرول کرنے کے لیے مناسب غذا کا استعمال، روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور معالج کی جانب سے تجویز کی گئی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی معائنے میں ذیابطیس کی علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسی صورت میں بار بار منہ سوکھنے کی شکایت سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائیں ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں