The news is by your side.

Advertisement

مظاہرین امریکی سفید فام فوقیت والی یادگار مٹانے لگے

واشنگٹن : سیاہ فام امریکی کے قتل پر ہونے والے مظاہروں میں مزید شدت آگئی، غصے سے بھپرے مظاہرین نے ملک بھر میں امریکیوں کی سفید فام بالادستی کی یادگاروں کو مٹانا شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا میں کچھ روز قبل چار پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں بدترین تشدد کے بعد ایک سیاہ فارم امریکی شہری کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے خلاف ریاست بھر میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

مظاہرین نے امریکا کی جنوبی ریاستوں میں امریکیوں کی سفید فام بالادستی دینے والی یادگاروں پر حملے شروع کردئیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جن مجسموں اور یادگاروں پر حملہ کیا گیا وہ کافی برسوں نے تنازعات کا شکار تھے کیونکہ ان کے ذریعے امریکا کی سیاہ فام شہریوں کو غلام بنانے کی تاریخ اور سفید فام امریکیوں کی بالادستی کی منظر کشی کی گئی تھی۔

جنرل رابرٹ ای لی، اسٹون وال جیکسن، جیفرسن ڈیوس اور جنرل جے ای بی اسٹورٹ ین رچمونڈ کی یاد میں لگائے گئے مجمسوں کو مظاہرین نے چاکنگ سے بھر دیا ہے جبکہ ریاست الاباما اور برمنگھم میں مظاہرین نے رسیوں اور ٹرک کی مدد سے چارلس لینن کے مجسمے کو زمین بوس کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سفید فام بالادستی اور جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد نے ریاست میسیسپی، شمالی اور جنوبی کیرولینا اور ٹینسیسی میں بھی سفید فام بالادستی کی یادگاروں کو نفرت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس افسر متاثرہ شخص کی گردن پر کافی دیر تک گھٹنا رکھے بٹھا رہا جو اس کی موت کا باعث بنا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں