The news is by your side.

Advertisement

نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف برطانیہ میں آج پھر احتجاج

لندن : سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے خلاف برطانیہ میں بھی مظاہرے جاری، مظاہرین نے پارلیمنٹ کا گھیراوٗ کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شہریوں نے بھی امریکی پولیس افسران کے ہاھتوں بہیمانہ تشدد کے بعد موت کے منہ میں جانے والے سیاہ فام امریکی کی ہلاکت پر احتجاج شروع کردیا، مظاہرین نسلی تعصب کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پارلیمنٹ اسکوائر پر اکٹھے ہوگئے۔

برطانوی شہریوں نے احتجاج کے دوران وزیر صحت اور لندن میٹروپولیٹن پولیس کی وارننگ بھی نظر انداز کردی، مظاہرین پارلیمنٹ اسکوائر کے گرد جمع ہوگئے اور نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف شدید نعرے بازی کرنے لگے۔

برطانوی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ مانچسٹر میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے، مظاہروں میں ہررنگ و نسل کے افراد شریک ہیں جو پولیس تشدد اور سیاہ فام شہریوں سے برتے جارہے نسلی امتیاز کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری مظاہروں کے مقامات پر تعینات کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار سے فوری نمٹا جاسکے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بھی امریکی پولیس کا رویہ نہ بدلا

خیال رہے کہ کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جارج فلائیڈ کی گردن پر سفید فام پولیس افسر کافی دیر تک گھٹنا رکھ کر بٹھا رہا اور جارج فلائیڈ چیختا رہا کہ ’پلیز پلیز میری ماں کو بلادو، مجھے سانس نہیں آرہی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں