The news is by your side.

Advertisement

جرمن حکومت کا مہاجرین کو گھر کی تعمیر کے سلسلے میں‌ رقم دینے کا فیصلہ

برلن : جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں حکومت اور اتحادی جماعتوں نے تارکین وطن کو جرمنی میں گھر خریدنے اور تعمیر کرنے کے سلسلے میں رقم دینے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی میں تارکین وطن اور یورپی اصلاحات سمیت کئی موضوعات پر جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے دفتر میں گذشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے تارکین وطن کو جرمنی میں گھر خریدنے یا بنانے کے لیے رقم دینے پر اتفاق ہوا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ چانسلر اینجلا میرکل کے دفتر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں جرمنی کی اتحادی حکومت میں شامی کرسچن سوشل یونین(سی ایس یو) کرسچن ڈیموکریٹک یونین(سی ڈی یو) اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی(ایس پی ڈی) کے سربراہوں نے شرکت کی۔

حکومت میں شامل جماعتوں کی یونین کے لیڈر فولکر کاؤڈر کا اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’جرمنی میں موجود مہاجرین کو گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے دی جانے والی رقم رواں برس سے سنہ 2020 دسمبر تک دی جائے گی‘۔

فولکر کاؤڈر کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کو مکانات کی تعمیر کے سلسلے میں دیئے جانے والے پیسوں کے منصوبوں کو ’چائلڈ بینیفٹ منی فار کنسٹرکشن‘ کا نام سے منسوب کیا گیا ہے کیوں کہ حکومت خاندان میں شامل بچوں کی تعداد کے اعتبار سے ہی تارکین وطن کو رقم کی ادائیگی کرے گی۔

فولکر کاؤڈر کا مزید کہنا تھا کہ مہاجرین کو گھر کی تعمیر اور خریداری کے سلسلے میں دی جانے والی رقوم کے منصوبے میں مزید تیزی لانی ہوگی، ساتھ ہی ساتھ جرمن حکومت ملک میں موجود تارکین وطن کے بچوں کو 10 برس کے دوران 12 ہزار یورو کی رقم بھی ادا کرے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اجلاس میں تارکین وطن سے متعلق معاملات پر تینوں سیاسی جماعتوں کے سربراہان متفق نہ ہوسکے۔

جرمن حکومت کی اتحادی جماعت کے سربراہ اور جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کا مطالبہ ہے کہ ’وہ تارکین وطن جنہوں نے یورپ کے کسی دوسرے ملک میں پناہ کی درخواست دی ہوئی ہے، انہیں جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے‘۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا میرکل چاہتی ہیں کہ تارکین وطن کے معاملے پر یورپی سطح پر کوئی فیصلہ کیا جائے، جس کے بعد دونوں رہنماروں کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوگیا۔

خیال رہے کہ جرمنی کے وزیر داخلہ ہورست زیہوفر نے انجیلا میرکل کو دھمکی دی تھی وہ انہیں وفاقی کابینہ سے برطرف کرنے سے گریز کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں موجود سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی آندریا ناہلس کا کہنا تھا کہ یونین جماعتیں حکومتی کام میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں جس کے باعث سیاسی عمل سستی کا شکار ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں