ترکی میں زیر حراست رہنے والی جرمن خاتون صحافی وطن واپس پہنچ گئیں
The news is by your side.

Advertisement

ترکی میں زیر حراست رہنے والی جرمن خاتون صحافی وطن واپس پہنچ گئیں

برلن: ترکی میں دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرنے والی جرمن خاتون صحافی ’میسیل تولو‘ آج اپنے وطن واپس پہنچ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق خاتون صحافی میسیل تولو کو ترکی میں دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا ہے، جبکہ وہ ترک جیل میں زیر حراست بھی رہی ہیں، تاہم گذشتہ دنوں ان پر سفری پابندی ختم کی گئی جس کے بعد وہ اپنے ملک جرمنی پہنچیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتون صحافی اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ وطن واپس پہنچی ہیں، ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ملک آکر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔

صحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے بہت دکھ بھی ہے کیوں کہ بیشر لوگ اب بھی ترکی میں زیر حراست ہیں جن میں متعدد صحافی بھی شامل ہے، ہمیں ان کی فکر ہے۔

ترکی: دہشت گردی کا مقدمہ، خاتون جرمن صحافی پر سفری پابندی ختم

خیال رہے کہ مذکورہ جرمن صحافی کو گزشتہ برس دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، میسیل کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل انہیں گزشتہ برس اٹھارہ دسمبر کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ جرمن صحافی کے خلاف ترک عدالت میں دہشت گردی کے حوالے سے مقدمے کا سامنا ہے، جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں پندہ برس قید کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ان پر الزامات ہیں کہ وہ ترکی میں دہشت گردانہ مواد کی تشہیر ملوث ہے، اور ترکی کی ایک دہشت گرد تنظیم سے روابط بھی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں